سپریم کورٹ کا نیب کراچی اور لاہور کو این آئی سی ایل کے سابق چیئرمین کیخلاف دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم

آج آپ کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں کیا آپ نے دبئی میں کیسینو کھول لیا تھا‘ آپ کس طرح تعینات ہوئے تھے جسٹس ثاقب نثار کا ایاز نیازی سے استفسار میرا کوئی کیسینو نہیں ہے‘ مجھے امین فہیم نے تعینات کیا تھا‘ سابق سیکرٹری کامرس نے میرا انٹرویو کیا تھا، ایاز خان نیازی

اتوار مئی 18:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے این آئی سی ایل کیس میں سابق چیئرمین ایاز خان نیازی سے کہا کہ آج آپ کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں کیا آپ نے دبئی میں کیسینو کھول لیا تھا‘ ایاز نیازی نے کہا کہ میرا کوئی کیسینو نہیں ہے‘ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کس طرح تعینات ہوئے تھے‘ ایاز خان نے جواب دیا کہ مجھے امین فہیم نے تعینات کیا تھا‘ سابق سیکرٹری کامرس نے میرا انٹرویو کیا تھا۔

اتوار کو سپریم کورٹ میں این آئی سی ایل کرپشن کیس کی سماعت ہوئی۔ سابق چیئرمین این آئی سی ایل ایاز خان نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دوسرا ملزم محسن حبیب وڑائچ کہاں ہی نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ محسن حبیب تاحال گرفتار نہیں ہوسکا چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم رائو انوار کو پیش کراسکتے ہیں تو محسن حبیب کیا ہے محسن حبیب کا نام ای سی ایل میں ہے۔

(جاری ہے)

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایاز خان نیازی ضمانت پر نہیں ہیں ایاز خان نیازی کے خلاف لاہور اور کراچی میں مقدمات زیر سماعت ہیں۔ سپریم کورٹ نے دونوں عدالتوں کو دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایاز صاحب آج آپ کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں دبئی میں آپ کیا کرتے تھی آپ نے وہاں کیسینو کھول لیا تھا ۔ ایاز نیازی نے کہا کہ میرا کوئی کیسینو نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کو مخدوم امین فہیم لائے تھے۔ اگر آپ نے جھوٹ بولا تو ضمانت خارج کردوں گا آپ کس طرح تعینات ہوئے تھی ایاز نیازی نے کہا کہ مجھے امین فہیم نے تعینات کیا تھا میں فروری 2009 میں پاکستان آیا تھا میں نے وزارت تجارت کے کہنے پر اپنا سی وی بھیجا تھا۔ سابق سیکرٹری کامرس نے میرا انٹرویو کیا تھا ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کی تنخواہ کتنی تھی نیازی نے کہا کہ یاد نہیں میری تنخواہ اس وقت کتنی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو یہ بھی یاد نہیں کہ آپ کی تنخواہ کتنی تھی نیب نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ این آئی سی ایل سکینڈل میں 90 میں سے 49 کروڑ کی ریکوی کرلی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ احتساب عدالت میں ٹرائل سست کیوں ہے۔ نیب گواہ کیوں پیش نہیں کررہا یہ پاکستان ہے یہاں لوٹ مار نہیں ہوگی۔ جو ملک کو لوٹے گا وہ حساب دے گا عدالت نے محسن وڑائچ کو بھی گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ سابق چیئرمین این آئی سی ایل ایاز خان کو سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کرلیا گیا۔