پاکستان کی آباد کاری کا ایک کثیر حصہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جو عام سکولوں کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہے ،ان کے پاس انتہائی مجبوری کی حالت میں مذہبی مدارس کا انتخاب کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہتا

جماعت اہلسنت پاکستان کے نائب ناظم اعلیٰ شیخ معراج خالد و دیگر کا خطاب

اتوار مئی 18:20

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) پاکستان کی آباد کاری کا ایک کثیر حصہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جو عام سکولوں کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہے ،ان کے پاس انتہائی مجبوری کی حالت میں مذہبی مدارس کا انتخاب کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہتا،ریاست کی سماجی اور معاشرتی نا انصافیوں کو نظر انداز کرنے کے باعث معاشرے میں جو خلا پیدا ہوا ہے ،مذہبی مدارس نے اس خلا کو پر کیا ہے ،ی مدارس اپنے طلبہ کو نہ صرف مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ انھیں مفت رہائش ،خوراک اور دیگر ضروریات زندگی بھی مہیا کرتے ہیں ،نیز تعلیم کے اختتا م پر مساجد میں ملازمت بھی دیتے ہیں ،اسی تسلسل کے حوالہ سے آج مرکزی جماعت اہلسنت کے زیر اہتمام وادی لیسوا میں مدرسہ نقشبندیہ میں حفظ قرآن پاک کی کلاس کا افتتاح کیا جا رہاہے ،ان خیالات کا اظہار جماعت اہلسنت پاکستان کے نائب ناظم اعلیٰ شیخ معراج خالد ،مظفرآباد ڈویژن کے امیر صاحبزادہ میاں بشیر نقشبندی ،یادگار اسلاف اہلسنت لیسوا بزرگ استاد راہنما مولانا حنیف قادری ،جامع مسجد انوار مدینہ لیسوا بٹنگی کے خطیب مولانا سعید چشتی ،دعوت اسلامی کے مفتی ابو بکر چشتی نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔