عمران خان ہمارا لاڈلا نہیں،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

عمران خان کو کب لاڈلا بنایا کہاں ریلیف دی،کہ بنی گالہ کیس کے حوالے سے کی جانے والی بیان بازی درست نہیں، بلائیں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کو، انہیں ان کا بیان دکھاتے ہیں،تجاوزات کے خلاف کارروائی حکومت نے کرنا ہوتی ہے، حکومت خود کارروائی نہ کرے تو ہم کیا کرسکتے ہیں، بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیر اور تجاوزات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دورا ن ریما رکس کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

اتوار مئی 18:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عمران خان ہمارا لاڈلا نہیں، بار بار یہ تاثر کیوں دیا جا رہا ہے کہ عدالت عمران خان کے ساتھ کوئی خاص سلوک کر رہی ہے ، ہم نے عمران خان کو کب لاڈلا بنایا کہاں ریلیف دی ، اتوار کے روز سپریم کورٹ میں بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیر اور تجاوزات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی ، سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے وفاقی وزیر مملکت برائے کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژ ن (کیڈ) طارق فضل چوہدری کو روسٹرم پر طلب کر لیااور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بنی گالہ کیس کے حوالے سے کی جانے والی بیان بازی درست نہیں، بلائیں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کو، انہیں ان کا بیان دکھاتے ہیں ، عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ مریم اورنگزیب وفاقی وزیر ہیں وہ کیسے ایسے بیانات دے سکتی ہیں ،اس ایشو پر کھیلنے کے لیے معاملہ کابینہ کو نہیں بھیجا گیا ۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی حکومت نے کرنا ہوتی ہے، حکومت خود کارروائی نہ کرے تو ہم کیا کرسکتے ہیں، بار بار یہ تاثر کیوں دیا جا رہا ہے کہ عدالت عمران خان کے ساتھ کوئی خاص سلوک کر رہی ہے، چیف جسٹس نے طارق فضل چوہدری کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ وضاحت دیں ورنہ آپ کیخلاف کارروائی کروں گا، حکومت نے کہا کہ بہت بڑی تعداد میں تعمیرات ہو چکی ہیں اتنے بڑے پیمانے پر کی گئی تعمیرات کو مسمار نہیں کیا جاسکتا ۔

، بتایئے یہ تعمیرات ریگولر کرنے کافیصلہ کس کا تھا کیا عدالت نے تعمیرات کو ریگولرائز کا کرنے کا فیصلہ دیا اس پر وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے عدالت میں اعتراف کرتے ہوے کہا کہ تعمیرات ریگولر کرنے کا فیصلہ ہم نے کیا، عدالت نے بنی گالا تعمیرات ریگولر کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کہاں عمران خان کو لاڈلا بنا دیا، ہم نے کہاں عمران خان کو رعایت دی طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے اپنے گھر کی جو دستاویزات جمع کرائیں ان کی تصدیق نہیں ہو سکی، کیس عدالت میں تھا اس لیے کچھ نہیں کیا ،،چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا ہے تو تحقیقات کرا لیں، ریاست جو چاہے فیصلہ کرے، جب تک منظور شدہ پالیسی غیر مناسب نہ ہوئی ہم مداخلت نہیں کریں گے۔

دوران سماعت طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ بنی گالہ تعمیرات سے متعلق سمری بھیجی جا چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ نالے پر غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کا پہلے بھی کہہ چکے ہیں، معاملے پر دو روز میں وفاقی محتسب کو درخواست دی جا سکتی ہے، وفاقی محتسب کورنگ نالہ پر متنازعہ جائیداد کا فیصلہ کرے گا۔۔عدالت نے بنی گالا تعمیرات کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی۔