کامرس نیوز

ٹیکس ایمنسٹی سکیم بل (آج)قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائیگا

اتوار مئی 18:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری ہونے سے قبل برآمداتی تجارت سے متعلقہ 100 ارب روپے کے وصول کردہ ٹیکس کو ریفنڈ کرے گی۔گزشتہ روز ایف پی سی سی آئی کی برانڈ آف دی ایئر کی تقریبات اور کونسل آف آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن (کیپٹا) سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کاروباری وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت(آج)پیر کو ٹیکس ایمنسٹی بل قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کرے گی۔

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ حکومت اپنی مدت کے اختتام سے قبل برآمداتی تجارت سے متعلقہ 100 ارب روپے کے ریفنڈز تقسیم کرے گی۔لیگی حکومت آئندہ 4 سے 5 ماہ کے اندر ایک ایکسپورٹ پیکج کا بھی اعلان کرے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر غیر قانونی منی ایکسچینجز کام کر رہے ہیں،حکومت غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک کرنسی کی روک تھام کیلئے اقدامات کرے گی،ان میں سے زیادہ تر منی ایکسچینجز پارا چنار میں ہیں اور یہاں پر امریکی ڈالر زیادہ آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ان منی ایکسچینجز میں غیر ملکی کرنسی کی آزادانہ ترسیل پر پابندیاں لگانے کیلئے منصوبہ تیار کر رہی ہے،اب دنیا تبدیل ہورہی ہے اور اب اسمگلنگ کے فنڈز اور کرنسی کی نگرانی کی جاتی ہے۔مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ اسمگلنگ کیوجہ سے فرانس میں نیشنل بین آف پاکستان (این بی پی) پر 7 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ امریکا میں حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) پر 25 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین سے درآمدات پر 4 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے درآمدات پر ڈھائی ارب ڈالر بے لگام انڈر انوائس کیوجہ سے قومی زرِمبادلہ کو آمدن میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ذرائع کے مطابق کیپٹا رہنماؤں سے ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل کے سامنے دو اہم مسائل پیش کیے گئے، جو 300 ارب روپے کے سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور ڈیوٹی اون لوکل ٹیکسز اینڈ لیوائز (ڈی ایل ٹی ایل) کی ریفنڈ سے متعلق تھے۔

کاروباری حضرات نے اصرار کیا کہ اگر حکومت انہیں ریفنڈ کی مد میں رقم ادا کرنے میں ناکام ہوگئی تو برآمد کنندگان کو بھاری نقصان ہوگا کیونکہ ملک میں پہلے ہی برامدات کے چھوٹے اور درمیانی کاروبار بند ہوتے جارہے ہیں۔