رائے ونڈ روڈ تعمیر کیس،نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو20 مئی کو طلب کرلیا

اتوار مئی 18:50

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) نیب لاہور نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 1998میں بطور وزیر اعظم اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے رائیونڈ روڈ کی تعمیر سے قومی خزانے کو 12 کروڑ 56 لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے پر تحقیقات کے لئے 20 مئی کو طلب کر لیا ہے ۔ نواز شریف کے حکم پر سکول اور ڈسپنسری کا بجٹ ختم کر کے عوامی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے 20 فٹ کی بجائے 24 فٹ چوڑی سڑک کی تعمیر سے لاگت میں اضافہ ہوا ۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی نیب لاہور کی جانب دو ڈپٹی ڈائریکٹر اور ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر پر مشتمل تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 20 مئی کو دوبارہ طلب کر لیا ہے ۔ گزشتہ طلبی پر نواز شریف لندن میں ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے تھے ۔

(جاری ہے)

سابق وزیر اعظم نواز شریف پر 1998 میں بطور وزیر اعظم اپنے بھائی اور اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے ساتھ مل کر ضلع کونسل کے ایک سکول اور ڈسپنسری کے بجٹ سے غیر قانونی طور پر 20 فٹ کی بجائے 24 فٹ چوڑائی کی رائیونڈ روڈ تعمیر کروائی ۔

جس سے عوامی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دے کر قومی خزانے کو 12 کروڑ 56 لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے اور اس معاملے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف براہ راست نامزد ملزمان ہیں ۔ معاملے کی انکوائری 2000 ء میں شروع کی گئی لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر الواء کا شکار رہنے کے بعد 2016 میں انکوائری پر دوبارہ کام شروع کیا گیا جبکہ موجودہ چیئرمین نیب نے معاملے کی براہ راست تحقیقات کا حکم دیا جس پر ڈی جی نیب لاہور نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جو نواز شریف سے تحقیقات کرنے کے ساتھ ساتھ ضلع کونسل کے افسران کے بیان قلمبند کرے گی اور ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے تفتیش مکمل کر کے احتساب عدالت لاہور میں باقاعدہ ریفرنس دائر کرے گی ۔ ۔