انتخابی جلسوں میں احسن اقبال فائرنگ کے واقعہ کا ذکر نہ کیا جائے ، سینئر لیگی رہنمائوں کا نواز شریف کو مشورہ

اتوار مئی 18:50

انتخابی جلسوں میں احسن اقبال فائرنگ کے واقعہ کا ذکر نہ کیا جائے ، سینئر ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) ختم نبوت ایکٹ میں ترمیم کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے ساق قائد نواز شریف پر جوتے سے حملہ اور احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعہ کو لیگی پارٹی نے جلسوں میں ذکر نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔

(جاری ہے)

رائیونڈ میں ہونے والی لیگی بیٹھک میں سینئر رہنمائوں نے مشورہ دیا ہے کہ آئندہ الیکشن میں جلسے جلوسوں میں ’’ختم نبوت‘‘ ایکٹ میں ترمیم کے ایشو پر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے اگر نواز شریف ، احسن اقبال پر حملوں کا تذکرہ بار بار کیا جائے گا تو یہ معاملہ بڑی تیزی سے ملک کے کونے کونے میں پھیل جائے گا جس سے مزید حملوں کا امکان ہے ۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ متعدد لیگی رہنمائوں نے اکیلے میں ہی الیکشن مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے مریم نواز ، نواز شریف اور شہباز شریف کی تقریریں کرانے سے صاف انکار کیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شہباز شریف نے اپنے بھائی کو کہا ہے کہ آپ کی ٹکرائو والی پالیسی سے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسا کہ آپ مسلم لیگ (ن) کی بطور صدر میری نامزدگی سے نالاں ہین ۔ پارٹی پالیسی یہ نہیں ہے کہ اداروں کے حدف تنقید کا نشانہ بنایا جائے ۔ شہباز شریف کے اس مشورہ پر نواز شریف نے سنی ان سنی کرتے ہوئے بات ٹال دی ۔ ۔