اسماعیل ہانیہ قاہرہ روانہ ہوگئے

اتوار مئی 18:50

غزہ سٹی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) غزہ کی اسلام پسند حکمران جماعت حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ اتوار کو قاہرہ روانہ ہوگئے ہیں ،یہ بات تحریک کے ذرائع نے بتائی ہے جیسا کہ ایک روز بعد واشنگٹن کی جانب سے اپنا سفارتخانہ متنازعہ طور پر یروشلم منتقل کرنے کے اقدام پر غزہ پٹی میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں ۔ ذرائع کا کہناہے کہ اسماعیل ہانیہ اتوار کی علی الصبح رفاح کراسنگ کے ذریعے روانہ ہوئے ہیں اور مصر کے سیکورٹی اداروں کے سربراہ سے ملاقات متوقع ہے جیسا کہ قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں کہ مصر تشدد میں کمی کیلئے پیر کوحماس کیساتھ ایک معاہدے پر بات چیت کررہا ہے ۔

پیر کوغزہ اوراسرائیل کے درمیان سرحد پر ہزاروں کی تعداد کی تعداد میں فلسطینیوں کے جمع ہونے کی توقع ہے تاکہ امریکہ کی جانب سے اپنا سفارتخانہ یروشلم میں منتقل کرنے پر احتجاج ریکارڈ کرایا جاسکے ۔

(جاری ہے)

حماس کے رہنماء خون خرابے کے امکانات کے باوجود اسرائیل میں باڑتوڑنے کی کوششوں کی حالیہ دنوں میں حمایت کرچکے ہیں۔ 30مارچ کوسرحدپر عوامیاحتجاج شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل فائرنگ کے نتیجے میں 44فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی جانب سے سفارتخانہ منتقل کرنے کے اقدام نے فلسطینیوں کوغم وغصہ میں مبتلا کردیا ہے جویروشلم کے مشرقی حصے کواپنے مستقبل کی ریاست کے درالخلافہ کے طور پر دیکھتے ہیں ۔۔ٹرمپ پیر کوسفارتخانہ کھولنے کی تقریب میں شریک نہیںہونگے تاہم انکی بیٹی ایوانکا اورداماد اورسنئیر مشیرجیرڈکوشنر شرکت کرینگے۔ہانیہ کی احتجاجی مظاہروں سے قبل غزہ میں واپسی متوقع ہے ۔