ناقص اقتصادی حکمت عملی، ملک تیزی سے تباہی کی طرف گامزن

گزشتہ سال عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری سود پر لی گئی 16 ارب ڈالر کی رقم بنکوں میں پڑی رہ گئی ،سود رواں مالی سال کے دوران ادا کیا جائے گا سب سے بری صورتحال صوبوں کی سطح پر رہی

اتوار مئی 18:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) ناقص اقتصادی حکمت عملی کی باعث پاکستان تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہے،گزشتہ سال 16 ارب ڈالر کی رقم جو عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری سود پر حاصل کی گئی تھی بنکوں میں پڑی رہ گئی جس کا سود رواں مالی سال کے دوران ادا کیا جائے گا۔سب سے بری صورتحال صوبوں کی سطح پر دیکھنے میں آئی ہے،،پنجاب حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران صوبائی محکموں کے پاس 635 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ موجود تھا جس میں سے نصف رقم استعمال نہ کی جاسکی اور لگ بھگ298 ارب روپے جون تک بنکوں میں پڑے رہ گئے،یہ تمام رقم بھاری سود پر بطور قرض حاصل کی گئی تھی۔

پاکستان کی اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اپنے مجموعی بجٹ کا تقریباً30فیصد قرضوں کی ادائیگی اور سود کی واپسی پر خرچ ہوجاتا ہے،جس رفتار سے قرضے حاصل کئے جارہے ہیں آئندہ سال40 فیصد رقم قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوگی اور یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آرہا۔

(جاری ہے)

قرضوں سے حاصل شدہ رقوم سے گزشتہ 10سالوں میں ایک بھی منافع بخش پروجیکٹ شروع نہیں کیا جاسکا جس کی آمدن سے کم از کم اقساط اور سود کی ادائیگی ہی ممکن ہوسکی۔

گزشتہ حکومت کا سب سے بڑا منصوبہ میٹروبس پروجیکٹ ایک بھاری بوجھ ہے جس پر ہر ماہ ایک کروڑ روپے سبسڈی کی مد میں ادا کی جارہی ہے۔ضرورت اس بات کی تھی کہ کالا باغ منصوبے کی طرح کے پروجیکٹ شروع کئے جاتے جن کی بدولت معاشی ترقی اور استحکام حاصل ہوتا۔ماہرین کے مطابق اگر قرضوں کی رقوم سے کالا باغ ڈیم منصوبہ مکمل کرلیا جاتا تو بجلی3روپے فی یونٹ کے حساب سے میسر آتی جس سے معاشی سرگرمیاں زور پکڑتیں اور عوام کو مہنگائی سے نجات ملتی۔

حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ قرضوں کی رقوم اس پر ضائع ہوجاتی ہیں۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے اپنے چار سالہ دور اقتدار میں64 غیر ملکی دورے کئے جبکہ صرف برطانیہ کے 17 دورے کئے۔ان کے ان دوروں پر سرکاری خزانے سے ایک ارب روپے خرچ ہوئے۔۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی9 ماہ کے دور حکومت میں بیرون دوروں پر66کروڑ روپے اڑا دیئے۔

حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کا یہ حال ہے کہ قرضوں کی رقوم بروقت استعمال ہی نہیں کی جائیں۔جون سے قبل تمام محکموں کو ہوش آتا ہے کہ رقم واپس ہونے سے بچانے کیلئے افراتفری میں پروجیکٹس شروع کئے جاتے ہیں جو نفع بخش ہونے کے بجائے مزید نقصان کا سبب بنتے ہیں۔حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کے باعث پاکستان تیزی سے بند گلی کی طرف جارہا ہی۔