ایم ایم اے کے مرکزی قائدین نے منشور کی منظوری دیدی

مینار پاکستان پر جلسے انتخابی منشور کو پیش کیا جائیگا

اتوار مئی 18:50

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) متحدہ مجلس عمل کی مرکزی قیادت نے مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے میں اپنے انتخابی منشور کو پیش کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اس سلسلے میں ایم ایم اے کے مرکزی قائدین نے منشور کی منظوری دیدی ہے بتایا گیا ہے کہ ایم ایم اے کی جانب سے مینار پاکستان کے جلسے میں پیش کیا جانے والا منشور 117 نکات پر مبنی ہے جس کے نکات میں ئینی و معاشی اصلاحات،امور خارجہ،سلامتی امور،ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ سرفہرست کرپشن فری پاکستان کیلئے تمام اداروں کے افراد کا بلاامتیاز احتساب ملک سے توانائی کے بحران کا خاتمہ ،آئی وسائل کی ترقی جبکہ تونائی بحران کے خاتمے کیلئے اتفاق رائے سے پانچ ڈیموں کی تعمیر بھی منشور میں شامل ہے، تعلیمی اصلاحات،صحت عامہ،کسان دوست پالیسیوں کا قیام،بے زمین کسانوں،ہاریوں کو بلامعاوضہ زمین فراہمی کا منصوبہ بھی منشور میں شامل ہے،،بجلی پانی ،کھاد کی سستے داموں فراہمی ،یکساں نظام تعلیم،،قرآن و حدیث کی تعلیم،،،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کو یقینی بنانے کی کوششیں،خواتین کیلئے علیحدہ سپورٹس کمپلیکس کا قیام سمیت خواتین کو حقوق دینے اور دیگر نکات کو بھی منشور کا حصہ بنایاگیا ہے جبکہ متحدہ مجلس عمل کی قیادت نے آئندہ الیکشن میں خواتین کو 5فیصد نمائندگی دینے کی بھی منظوری دیدی ہے جس کے مطابق ایم ایم اے آئندہ الیکشن میں خواتین امیدواروں کو میدان میں اتارے گی جبکہ جلسے کے بعد خواتین امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دی جائیگی جس میں ایم ایم اے کی پانچویں جماعتیں اپنی خواتین امیدواروں کے نام دینگے مینار پاکستان جلسے کے بعد پارلیمانی بورڈ کی تشکیل کی جائیگی جس میں خواتین کو آئندہ الیکشن میں 5 فیصد کوٹے دینے کی پابندی کی جائیگی واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام سیاسی جماعتوں کو آئندہ الیکشن میں 5 فیصد خواتین امیدواروں کو ٹکٹ دینے کی ہدایات جاری کی ہوئیں ہیں۔