آرٹس کونسل ساہیوال کے زیر اہتمام مجید امجد ادبی کانفرنس کا انعقاد

اتوار مئی 19:20

ساہیوال۔13 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) آرٹس کونسل ساہیوال کے زیر اہتمام ایک روزہ مجید امجد ادبی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف شاعر مجید امجد کی ادبی خدمات کو سراہا گیا ۔ادبی کانفرنس کا مقصد نوجوان نسل کو ترقی پسند ادب کی طرف راغب کرنا تھا تاکہ وہ اپنی سوچ سے انسانی قدروں کے فروغ اور معاشرتی اصلاح کا عظیم مقصد حاصل کرنے میںہراول دستے کا کردار ادا کر سکیں۔

ایک روز ہ ادبی کانفرنس تین نشستوں پر منعقد ہوئی ۔پہلی نشست جس کا موضوع تھا مجید امجد شناسی (روایت اور تناظر)‘اس نشست کے مہمان خصوصی معروف دانشور ڈاکٹرسعادت سعید جبکہ دیگرمقررین میں ڈاکٹر قاضی عابد‘ڈاکٹر طاہرہ اقبال‘ڈاکٹر روش ندیم اور پروفیسر حنا جمشید شامل تھی جبکہ دوسری نشست مجید امجد شناسی اور نئی نسلی (مذاکرہ )جس میں معروف دانشور ڈاکٹر عامر سہیل،، ڈاکٹر ظفر حسین ہرل ‘ڈاکٹر سجاد نعیم‘ڈاکٹر مظہر عباس اور ڈاکٹر رخسانہ بلوچ نے شرکت کی اور تیسری نشست مجید امجد اور منٹگمری (یادیں) کے عنوان سے ہوئی جس میں معروف دانشوروں پروفیسر اخلا ق حسین ‘پروفیسر محمد اکبر شاہ‘ایزد عزیز ‘ڈاکٹر ندیم اشرف اور سماجی رہنما امین رضا نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیااور مجید امجد کی اردو ادب کے حوالے کی جانے والے کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔

(جاری ہے)

کانفرنس کے میزبان ڈائریکٹر ساہیوال آرٹس کونسل ڈاکٹر ریاض ہمدانی تھے۔ملک کے معروف شاعر مجید امجد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اسے ابتک کی سب سے بڑی کانفرنس قرار دیا اور کہا کہ اس سے نوجوان نسل میں مجید امجد فہمی میں اضافہ ہو گا۔کانفرنس میں ملک کے معروف ادیب اور شاعر وں کے علاوہ صحافیوں ‘وکلاء‘سماجی کارکن اور طالبعلموں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

تخلیق کارو ںکے اس اجتماع میں مقالے بھی پیش کئے گئے اورعوام میںاردو ادب کے حوالے سے شعور و آگہی پھیلانے کی اہمیت پر سیر حاصل تقاریر بھی ہوئی۔کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ ایسی ادبی کانفرنس کے اہتمام بیحد ضروری ہے جن سے تخلیقی سرگرمیوں کو جلا ملتی ہے ملک میں موجود شدت پسندی کی نفی کرنے کا موقع بھی میسر آتاہے ۔کانفرنس کی ہر نشست کے اختتام پر ادیبوں اور دانشوروں میں شیلڈ اور تحائف بھی تقسیم کئے گئے ۔

متعلقہ عنوان :