مجلس وحدت مسلمین کی اپیل پریوم مردہ باد امریکہ اسرائیل وہندوستان ریلی کا انعقاد

امریکا عالمی دہشتگرہے جو مسلمان و عرب ممالک اور تیسری دنیا کے ممالک میں مداخلت کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے، علامہ اعجاز بہشتی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فیصلہ سنادیا کہ مقبوضہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت مان لینے کا اور وہاں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کا امریکی فیصلہ ناجائز و غیر قانونی ہے ، ریلی سے خطاب

اتوار مئی 19:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) مجلس وحدت مسلمین کے قائد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں یوم مردہ باد امریکہ اسرائیل وہندوستان ریلیاں نکالی گئیں اسلام آباد میں ریلی کی قیادت علامہ اعجاز بہشتی کر رہے تھے ریلی اسلام آباد نیشنل پریس کلب سے ہوتے ہوئے ڈی چوک بلیو ایریا تک گئی جہاں ریلی جلسہ عام میں تبدیل ہوگئی۔

شرکائے ریلی نے بینرز، پلے کارڈز اور پارٹی جھنڈے اٹھارکھے تھے اور وہ مسلسل امریکا مردہ باد، اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اعجاز بہشتی کا کہنا تھا کہ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا عالمی دہشتگرہے جو دیگر ممالک اور خاص طور پر مسلمان و عرب ممالک اور تیسری دنیا کے ممالک میں مداخلت کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

انکا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں جنگوں کی آگ بھڑکانے میں ، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحے کی تیاری اور فروخت میں، دہشت گردوں کے ذریعے عدم استحکام اور قتل عام میں امریکی حکومتیں اور اس کے ادارے ہی ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فیصلہ سنادیا کہ مقبوضہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت مان لینے کا اور وہاں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کا امریکی حکومتی فیصلہ ناجائز و غیر قانونی ہے لیکن اس کے باوجود پوری دنیا کی رائے کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ٹرمپ حکومت اپنے اس انسانیت دشمن، اسلام دشمن، عرب دشمن فیصلے پر ڈھٹائی سے قائم ہے۔

اس موقع پر علامہ ڈاکٹر یونس کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ کہ ماضی میں بھی امریکی حکومتوں نے پاکستانی قوم کی تذلیل و توہین کی ہے اور صدر ٹرمپ اور انکے دیگر حکومتی اہلکاروں نے پاکستان کے خلاف مہم شروع کررکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں قائم بھارتی سفارتخانہ امریکی سرپرستی میں بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے قابل مذمت ایجنڈا پر عمل کررہا ہے۔

نثار علی فیضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے بڑے منظم طریقے سے فلسطین کی دوست حکومتوں اور تنظیموں کو نشانہ بنایا ہے اور ان ملکوں پر جنگیں مسلط کی اور کروائی ہیں تاکہ فلسطین پر ناجائز قبضہ کرنے والے اسرائیل کو بچاسکے۔ انکا کہنا تھا کہ اسرائیل نے نہ صرف فلسطین بلکہ لبنان اور شام کے علاقوں پر بھی ناجائز قبضہ کررکھا ہے لیکن امریکا اور اس کے اتحادی انٹرنیشنل لاء کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیگر ممالک میں جارحیت کررہے ہیں اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے۔

اسرائیل کے انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم میں امریکا اور اس کے اتحادی شریک ہیں۔ امریکا نے عراق و افغانستان میں بھی یلغار کی اور وہاں اس نے دہشت گردوں کی آبیاری کی تاکہ اس بہانے سے ان دونوں ملکوں میں اپنے فوجی اڈوں کو قائم رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام تر مشکلات کا ذمے دار بھی امریکا اور اس کے بعض اتحادی ہیں کیونکہ وہ پاکستان کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ ایران سے گیس نہ خریدیں، تجارت نہ کریں اور اس کی وجہ سے آج پاکستان میں انرجی کا بحران ہے، ملک میں بجلی مہنگی ہے اورلوڈ شیڈنگ ہورہی ہے ، صنعتیں بند ہورہی ہیں یا پیدوار بالکل کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے بر آمدات میں بھی بے حد کمی واقع ہوئی ہے اور پاکستان اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی اس ایران دشمن پالیسی کی وجہ سے کھوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکی سے براستہ ایران تجارت کرکے جو زر مبادلہ کما سکتا تھا وہ بھی امریکا اور اس کے بعض اتحادی ممالک کی بلیک میلنگ کی وجہ سے نہیں کما سکا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان سمیت عالم اسلام و عرب اور تیسری دنیا کے ممالک امریکا اور اس کے اتحادیوں کی دھمکیوں اور بلیک میلکنگ کو جوتے کی نوک پر رکھ کر آزاد ہوکر اپنی پالیسیاں بنائیں اور حقیقی معنوں میں خود مختاری حاصل کریں۔