قومی سلامتی کے مقتدر اداروں کا نوازشریف کے متنازعہ بیان پر گہری تشویش کا اظہار،فوری قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ

قومی سلامتی کمیٹی سیکرٹریٹ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو آگاہ بھی کردیا ،کمیٹی کا اجلاس ایک دو دن میں متوقع سرل المیڈا کے زریعے نوازشریف کے انٹر ویو کا فیصلہ مریم نواز اور پرویز رشید کی مشاورت سے ہوا ، سرل المیڈا کو ملتان ائیر پورٹ پر خصوصی انٹر ی پاس جاری کیا گیا ، مشیر ہوا بازی سردار مہتاب کے پی ایس او نے خصوصی اجازت نامہ جاری کیا،ر انٹرویو لیا بھی ملتان ائیر پورٹ ہی گیا شاہد خاقان عباسی سمیت ان کی پوری حکومت کے علم میں بھی نہیں تھا کہ نواز شریف اس طرح کا انٹرویو دے کر اپنے اور پارٹی کے لیے مشکلات بڑھا دینگے وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس نہ بلایا تو پاک فوج کی جانب سے رد عمل آنے کا امکان ہے،ذرائع

اتوار مئی 19:30

ا سلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) قومی سلامتی کے مقتدر اداروں نے ممبئی حملوں سے متعلق سابق وزیراعظم نوازشریف کے متنازعہ انٹرویو پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے سیکرٹریٹ نے اس حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو آگاہ بھی کردیا ہے اور کمیٹی کا اجلاس ایک دو دن میں متوقع بھی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتدر ادارے حیران ہیں کہ نواز شریف نے اس متنازعہ انٹرویو کی وضاحت دو دن گزرنے کے باوجود بھی نہیں کی اور اس انٹرویو کے لیے انہوں نے ڈان لیکس کے مرکزی کردار سرل المیڈا کا ہی انتخاب کیا ۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ سرل المیڈا کے زریعے ممبئی حملوں سے متعلق نوازشریف کے انٹر ویو کا فیصلہ مریم نواز اور پرویز رشید کی مشاورت سے ہوا اور ان دونوں پر ڈان لیکس کے حوالے سے سنگین الزامات بھی لگے تھے سرل المیڈا کو ملتان ائیر پورٹ پر خصوصی انٹر ی پاس جاری کیا گیا اس کے لیے مشیر ہوا بازی سردار مہتاب کے پی ایس او نے خصوصی طور پر اجازت نامہ جاری کیا اور انٹرویو لیا بھی ملتان ائیر پورٹ ہی گیا ۔

(جاری ہے)

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت ان کی پوری حکومت کے علم میں بھی نہیں تھا کہ نواز شریف اس طرح کا انٹرویو دے کر اپنے اور پارٹی کے لیے مشکلات بڑھا دینگے اسی لیے اس معاملے پر کوئی حکومتی وزیر بولنے کو تیار نہیں ہے ۔ ذر ائع کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں نے نوازشریف کے انٹرویو کو ملک دشمن قوتوں کے ہاتھوں کھیلنے کے تناظر میں لیا ہے اور ان کے خلاف بھی اسی طرح کے اقدامات کا مطالبہ کیا جائے گا جس طرح کی پابندی الطاف حسین پر لگی تھی جبکہ دوسری طرف میانوالی اور سرگودھا سمیت کئی شہروں میں نواز شریف کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی درخواستیں دیدی گئی ہیں۔

قومی سلامتی کے اداروں نے نوازشریف کے اس بیان کو پاکستان کی سلامتی اور بھارت کے حوالے سے پاکستان کے نقطہء نظر کو کمزور کرنے کے تناظر میں دیکھا ہے اور اس معاملے کو ایسے ہی نہیں جانے دیا جائے گا اگر وزیراعظم نے اس معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس نہ بلایا تو پاک فوج کی جانب سے اس انٹرویو پر رد عمل آنے کا امکان ہے ۔دوسری طرف سلامتی کے اداروں نے ممبئی حملوں سے متعلق سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے بیان پر اطمینان ظاہر کیا ہے جس میں تمام تر صورت حال کو واضح کیا گیا ہے ۔