کوئٹہ، بلوچستان میں امن وامان کی بحالی کے لئے خارجہ وداخلہ پالیسی میں تبدیلی نا گزیر ہو چکی ہے ، ملک عبدالولی کاکڑ

اس کے بغیر حالات اور دیگر ممالک سے تعلقات کی بہتری کو ممکن نہیں بنایا جا سکتا بجٹ بنانے والوں کو عوام سے کوئی سروکار نہیں انہوںنے ہمیشہ بجٹ میں عوام کو مہنگائی اور مسائل کے علاوہ کچھ نہیں دیا ،سینئر نائب صدر بلوچستان نیشنل پارٹی

اتوار مئی 19:30

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن وامان کی بحالی کے لئے خارجہ وداخلہ پالیسی میں تبدیلی نا گزیر ہو چکی ہے اس کے بغیر حالات اور دیگر ممالک سے تعلقات کی بہتری کو ممکن نہیں بنایا جا سکتا بجٹ بنانے والوں کو عوام سے کوئی سروکار نہیں انہوںنے ہمیشہ بجٹ میں عوام کو مہنگائی اور مسائل کے علاوہ کچھ نہیں دیا کیونکہ اس میں ان کے مفادات کے منصوبوں پر خصوصی نظریں کرم کی جاتی ہے ’’ آن لائن‘‘ سے خصوصی گفتگو کر تے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ بجٹ بنانے والوں نے ہمیشہ عوام کے دیرینہ مسائل کو نظرانداز کر کے عوام کے لئے مسائل اور مہنگائی کوبڑھاوا دینے کا بجٹ پیش کیا ہے کیونکہ بنانے والوں کے اپنے مفادات کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ساتھ اس کے لئے فنڈز اور مراعات رکھی جاتی ہے اس لئے عوام کو موجودہ بجٹ میں بھی سوائے مہنگائی کے کچھ نہیں ملے گا کیونکہ عوام سے کسی کو کوئی غرض نہیں عوام ہمیشہ بجٹ کے بعد مہنگائی کی چکی میں پستی رہتی ہے انہوں نے کہا ہے کہ وزراء ، اراکین اسمبلی اور بیورو کریسی نے بھی بجٹ میں اپنے مفادات کے منصوبوں پر کام کرنا ہو تا ہے اس لئے عوام آج بھی امن وامان صحت، تعلیم،، روڈ اور دیگر عوامی منصوبوں کے ثمرات سے مطمئن نہیں امن وامان کی صورتحال روز روشن کی طرح سب کی سامنے عیاں ہے پاک افغان بارڈر پر خاردار تار اور فنسنگ کے عمل سے دہشت گردی اور بد امنی پر قابو نہیں پایا جا سکتا جب تک امن کی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان کی داخلہ وخارجہ پالیسی کو تبدیل کر کے ملک اور قوم کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے مثبت پالیسی بنا کر حالات اور دیگر ممالک سے تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اسی وقت امن کی بحالی فنسنگ اور بارڈر پر باڑ فائدہ مند ثابت ہو گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے صوبے اور ملک کے وسائل کو بے دریغ طریقے سے لو تا ہے لیکن عوام کی فلاح وبہبود کے منصوبوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے تعلیم،، صحت، پینے کے صاف پانی اور سڑکیں سمیت دیگر شعبوں کی حالت زار کو بہتر نہیں بنایا گیا اگر ان شعبوں کو بہتر بنایا جاتا تو آج ان کے ثمرات سے ہمارے عوام مستفید ہو رہے تھے یہی وجہ ہے کہ ہمارے عوام آج بھی زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور حکمران طبقہ عوام کے ٹیکسوں پر عیاشیاں کر رہا ہے۔