بلوچستان تحریک انصاف میں کوئی اختلافات نہیں ، نورالدین کاکڑ

انتخابات میں حصہ لینے کیلئے امیدواروں نے درخواستیں جمع کرانی شروع کردی ہیں، جلد ہی مرکزی بورڈ ،صوبائی بورڈ کی سفارشات پر ٹکٹیں جاری کرے گا ، صدر تحریک انصاف کوئٹہ

اتوار مئی 19:50

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کوئٹہ کے صدر نورالدین کاکڑ نے کہاہے کہ بلوچستان تحریک انصاف میں کوئی اختلافات نہیں ،انتخابات میں حصہ لینے کیلئے امیدواروں نے درخواستیں جمع کرانی شروع کردی ہے جلد ہی مرکزی بورڈ ،صوبائی بورڈ کی سفارشات پر ٹکٹیں جاری کرے گا ،،الیکشن کمیشن آ ف پاکستان سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مردم شماری کے بعد بنائے گئے حلقہ بندی کے ذریعے پی بی 28کی حیثیت کو برقرار رکھا جائے اور ایک کمیونٹی کی طرف سے کئے گئے اعتراضات کو جس میں ایک یونین کونسل کے آبادی کو بھی پی بی 28میں ایڈ جسٹ کیا جائے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور کینٹ کے دو وارڈز کو واپس پی بی 29میں ایڈ جسٹ کیا جائے کیونکہ کینٹ اور پشتون آباد کے درمیان بہت فاصلہ ہے ،اور یہ غیر منطقی بھی ہے ،اگر اس کو بحال نہ کیا گیا تو جمہوری اور قانونی طریقے سے پی بی 28کو بحال کرانے کی ہر جدوجہد کو عملی شکل دینے پر مجبور ہوں گے ،انہوںنے یہ بات اتوار کے روز کوئٹہ پریس کلب میں تحریک انصاف کوئٹہ سٹی کے عہدیداروں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ،انہوں نے کہاکہ 2013ء کے الیکشن میں بھی ایک منصوبے کے تحت الیکشن میں دھاندلی کی گئی ہم اس دفعہ ایسا نہیں ہونے دیں گے ،ہم ہائیکورٹ سے بھی رجوع کریں گے ،انہوں نے کہاکہ 12190کی آبادی کو واپس ایڈجسٹ کرنے کی بجائے پی بی 28کے حلقہ 40جس کی آباد ی 16546 اور حلقہ 49جس کی آباد ی42638 بنتی ہے کو متاثر کیا گیا اور مزید یہ کہ پشتون آبادی جوکہ پہلے پی بی 3میں ایک مکمل جغرافیہ میں موجود تھے ،ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ،انہوں نے کہاکہ ایک ہی جغرافیہ میں موجودہ آبادی جس کی زبان اور ثقافت میں مطابقت ہو اور انکی مرضی اور رائے سے حلقہ بنایا جائے لیکن یہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے پشتون آبادی جو کہ ایک کمیونٹی ہے اس کی نصف آبادی پی بی 28اور پی بی 27میں تقسیم کی گئی ہے ،ایک بڑی آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کرکے وہاں کے عوام کو اپنی نمائندے سے محروم کرنے کی اس نارواعمل کو پاکستان تحریک انصاف ہر فورم پر چلینج کرے گی ،انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف حالیہ غیر منصفانہ اور بدنیتی پر مبنی حلقہ بندیوں کو مکمل طورپر مسترد کرتی ہے ،،تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے اس نارواطرز عمل کو ہر فورم پر مسترد کرے گی کیونکہ یہ جو حلقے بنائے گئے یہ پسند نا پسند پر بنائے گئے 2017کی مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے آبادی اور رقبے کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیاں کی گئی جس میں اعتراض درستگی کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا ،ضلع کوئٹہ کی موجودہ آبادی 2275699بتائی گئی ہے اور الیکشن کمیشن کی طرف سے ایک فارمولہ طے کیا گیا ہے کہ 242000پر ایک صوبائی اسمبلی اور 772000کی آبادی پر ایک قومی اسمبلی کا حلقہ بنے گا ،