پاکستان سمیت 19 ممالک کی خبر رساں ایجنسیوں کا پیشہ ورانہ تعاون میں اضافے‘ خبروں،تصاویر اور ویڈیو نیوز فوٹیج کے تبادلے پر اتفاق

انڈونیشیا میں 113نیوز چینلز کام کر رہے ہیں اور انطارا کو پاکستان سے ویڈیو فوٹیج کی ضرورت ہے‘ انطارا کا عالمی سطح پر وسیع نیٹ ورک قائم ہے جہاں سے روزانہ تقریبا1300سٹوریز ریلیز کی جاتی ہیں‘ ایلسوان ایزلے پاکستان برادر ملک ہے اور آذربائیجان پاکستان کیساتھ میڈیا سمیت تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینا کا خواہاں ہے‘ آذر ٹیک آذری کے علاوہ دنیا کے دس زبانوں میں دیگر ممالک کیساتھ خبروں اور ویڈیو فوٹیجز کا تبادلہ کر رہا ہے‘ گونل ملیکوف ایک لاکھ سے زائد پاکستانی یونان میں کام کر رہے ہیں اور یونان کی اقتصادی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں‘ پاکستان ایک اہم ملک ہے‘ اے پی پی کیساتھ خبروں اور ویڈیو فوٹیجزکے تبادلے سے متعلق معاہدے کیلئے تیار ہیں‘ میچالس سیلوس ایران میں پاکستان سے متعلقہ خبروں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے‘مہر نیوز ایجنسی پاکستان کو ایران کا ایک بڑا ہمسایہ ملک ہونے کی وجہ سے بڑی اہمیت دیتی ہے‘ ایجنسی نے ایک مکمل صفحہ اردو زبان میں مختص کیا ہوا ہے‘ محمد مہدی رحیمی آئی سی این اے کانفرنس میں شرکاء کو یہاں مختلف ممالک کے صحافیوں سے تبادلہ خیال کا موقع میسر آیا‘ رضا سید احمد عباس الشازلی

اتوار مئی 20:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) پاکستان سمیت 19 ممالک کے بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں نے پیشہ ورانہ تعاون میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے خبروں،تصاویر اور ویڈیو نیوز فوٹیج کے تبادلے پر اتفاق کیا ۔ اتوار کو یہاں قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان((اے پی پی)کے زیر اہتمام نیوز ایجنسیز کی دو روزہ کانفرنس کے دوران مختلف ممالک کے نمائندوں نے ’’اے پی پی‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ’’اے پی پی‘‘ کیساتھ پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینگے۔

کانفرنس میں شریک انڈونیشیا کے قومی خبر رساں ادارے ’انطارا‘کے نمائندے ایلسوان ایزلے نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’’اے پی پی‘‘ کیساتھ خبروں کے تبادلے کو توسیع دینا چاہتے ہیں‘اس مقصدکیلئے جلد نظام وضع کیا جائیگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں 113نیوز چینلز کام کر رہے ہیں اور انطارا کو پاکستان سے ویڈیو فوٹیج کی ضرورت ہے۔

انطارا کی عالمی سطح پر وسیع نیٹ ورک قائم ہے جہاں سے روزانہ تقریبا1300سٹوریز ریلیز کی جاتی ہیں۔ہماری نیوز ایجنسی کے تین سو صارفین ہیں اور ساٹھ فیصد فنڈ حکومت کی جانب سے فراہم کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انطارا اگلے دو سال تک اخباروں اور نیوز چینلز کو نیوز سٹوریز اور ویڈیو فوٹیجز مفت فراہم کر رہی ہے۔آذربائیجان نیوز ایجنسی ’’آذر ٹیک‘‘ کی نمائندہ گونل ملیکوف نے کہا کہ پاکستان برادر ملک ہے اور آذربائیجان پاکستان کیساتھ میڈیا سمیت تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینا کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آذر ٹیک آذری کے علاوہ دنیا کے دس زبانوں میں دیگر ممالک کیساتھ خبروں اور ویڈیو فوٹیجز کا تبادلہ کر رہا ہے۔چیف ایگزیکٹیو آفیسر یونان نیوز ایجنسی ’’اے این اے‘‘ میچالس سیلوس نے کہا کہ پاکستان ایک اہم ملک ہے اور ہماری نیوز ایجنسی اے پی پی کیساتھ خبروں اور ویڈیو فوٹیجزکے تبادلے سے متعلق معاہدے کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ یونان پاکستان کیساتھ دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ سے زائد پاکستانی یونان میں کام کر رہے ہیں اور یونان کی اقتصادی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس سے بین الاقوامی نیوز ایجنسیوں کے درمیان ورکنگ تعلقات کو فروغ ملے گا۔ڈائریکٹر جنرل آف ڈومیسٹک نیوز مہر نیوز ایجنسی ’’منا‘‘محمد مہدی رحیمی((ایران)) نے کہا کہ ایران میں پاکستان سے متعلقہ خبروں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور مہر نیوز ایجنسی بالخصوص پاکستان سے متعلق ہر خبر پر گہری نظر رکھتی ہے کیونکہ ایران میں پاکستان سے متعلق خبر کے لئے ایک بڑی تعداد انتظار میں ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ مہر نیوز ایجنسی پاکستان کو ایران کا ایک بڑا ہمسایہ ملک ہونے کی وجہ سے بڑی اہمیت دیتی ہے‘ خاص طور سیاسی ،تجارتی اور عوامی سطح کی خبروں کو دیکھا جاتا ہے اور ان کے تبادلے میں دلچسپی رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کا صرف ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ان کی بہت سی قدریں اور روایات مشترک ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہر نیوز ایجنسی نے ایک مکمل صفحہ اردو زبان میں مختص کیا ہوا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان خبروںکا وسیع پیمانے پر تبادلہ ہونا چاہیے، اے پی پی اور منا کے درمیان خبروں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے ہم اس طرف پیش رفت چاہتے ہیں۔انہوں نے کانفرنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اے پی پی نے مختلف ممالک کی نیوز ایجنسیوں کو بات چیت اور تبادلہ خیال کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کر کے بہت احسن قدم اٹھایا ہے۔

ایڈیٹنگ منیجر مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی(مینا)((مصر))رضا سید احمد عباس الشازلی نے کہاکہ آئی سی این اے کانفرنس میں شرکاء کو یہاں مختلف ممالک کے صحافیوں سے تبادلہ خیال کا موقع میسر آیا اورایک دوسرے کے مسائل سمجھنے کے ساتھ ذاتی طور مشاہدہ میں بے پناہ مدد ملی۔انہوں نے کہا کہ آئی سی این اے سے ہمیں پاکستان کے بارے بہتر طور جاننے میں مدد ملی ہے اور بہت سی باتوں سے آگاہی ہوئی ہے،اس قسم کی کانفرنسوں کے انعقاد سے خطے کے مسائل اجاگر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی ادراک ہوتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آئی سی این اے میں جنرل ناصر جنجوعہ کا خطاب انتہائی متاثرکن تھا۔