ملک میں جمہوریت کوجتنا خطرہ سیاسی لیڈروں سے اتنا خلائی مخلوق سے نہیں ہے،نوابزادہ سراج خان رئیسانی

اتوار مئی 20:50

سبی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) بلوچستان متحدہ محاذ کے سربراہ و پاکستان پرست رہنماء نوابزادہ سراج خان رئیسانی نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کوجتنا خطرہ سیاسی لیڈروں سے اتنا خلائی مخلوق سے نہیں ہے،عام انتخابات میں کوئی پارٹی واضح اکثریت لے کر کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہی ہے،نواب زہری کی حکومت اس کی اپنی ہی جماعت کے اراکین نے گرائی،سیاست حرف آخر نہیں بلکہ سیاست میں حریف حلیف اور حلیف حریف بن جاتے ہیں،سیاست میں ہم بلوچستان کے عوام کو بند گلی میں دھکیلنا نہیں چاہتے ہیں،،بلوچستان کی نگران حکومت میں جو بھی آئے ان سے توقع رکھیں گے کہ وہ عام انتخابات کو خوش اسلوبی سے انجام دیں،حالیہ حلقہ بندیوں سے جہاں کچھ لوگ ناراض ہیں تو وہاں پر کافی حلقے خوش بھی ہیں،ایسی25سے زائد افرادہیںجو اپنے جوتے پالش کرکے وزیراعلیٰ ہائوس میں گھسنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں،بوٹ والے پسند ہیں جبکہ بلوچی جوتوں والے جو پہاڑوں پر بیٹھ کربے گناہوں کا قتل کررہے ہیں وہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں،،الیکشن میںبلوچستان متحدہ محاذ کو ئٹہ سے امیدوار کھڑا کرئے گی جبکہ سبی سمیت دیگر حلقوں میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر الیکشن میں حصہ لیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں چیف آف خجک سردار محمد خان خجک کی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات چیت میں کیا قبل ازیں نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی نے خجک قبیلے کے سربراہ سردار محمد خان خجک کی والدہ ماجدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی و تعزیت بھی کی اس موقع پر ممتاز قبائلی رہنماء میر فرید خان رئیسانی ،میر تاج محمد رئیسانی ،محمد انور بھٹو،میرسلام جان رئیسانی ،میر احمد خجک،،بلوچستان متحدہ محاذ کے مرکزی وائس چیئرمین شمس مینگل،سید احسان شاہ ،ودیگر بھی موجود تھے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو جتنا خطرہ خود جمہوری لوگوں سے ہے کسی اور سے نہیں ہے جمہوریت کے دعویدار عوام تک سروسز منتقل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد جمہوری اداروں پر ختم ہوتا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں اس مرتبہ کسی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت سے کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر پرامن طریقے سے منعقد ہوں تاکہ ملک میں جمہوریت کو استحکام مل سکے ،،نگران حکومت کسی کی بھی ہو ان سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ الیکشن پرامن طریقے سے خوش اسلوبی کے ساتھ انجام تک پہنچائے گی انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کی دوڑ میں 25سے زائد شخصیات نے اپنے جوتے پالش کرکے وزیراعلیٰ ہائوس میں داخل ہونے کو تیار بیٹھے ہیںدیکھتے ہیں کو ن خوش نصیب داخل ہوتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہم بوٹ والوں کو اس لیے پسند کرتے ہیں کہ وہ سرحدی محاذ کے علاوہ ملک میں آنے والی ہر آفت اور مصیبت کی گھڑی میں قوم کا ساتھ دیا ہے اور قوم کو مشکل سے نکالا ہے اور ایسے افراد جو پہاڑوں پر بیٹھ کر بے گناہ لوگوں کا خون بہار ہے ہیںوہ کسی صورت نرمی کے مستحق نہیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان متحدہ محاذ عام انتخابات میں حصہ ضرور لے گی اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے امیدواروں کو سامنے لائے گی جبکہ ضلع کچھی اور سبی سمیت دیگر علاقوں سے مشاورت کے ساتھ امیدواروں کو سامنے لایا جائے گا حلقہ پی بی08سبی سے میر فرید خان رئیسانی اور سردار محمد خان خجک کے نام زیر غور ہیں انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں عوام ہی ہماری سیاست کا محور اور طاقت ہیں اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو انشاء اللہ ضرور عوام کے مسائل میں کمی لانے اور ان تک سروسز کی ترسیل کو ہر صورت یقینی بنائوں گا انہوں نے کہا کہ سیاست حرف آخر نہیں ہوتا ہے عوام کے عظیم تر مفاد کی خاطر سیاسی اتحاد ضرور کریں گے اور بلوچستان کے عوام کو کسی بند گلی میں لے جاکر تنہاء نہیں چھوڑیں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواب ثناء اللہ زہری کو اپنے ہی گھر کے چراغ سے آگ لگی اور اس کی اپنی ہی جماعت کے اراکین نے ان کی حکومت کو گرایا ہے کسی غیر نے نہیں انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ)پر ہمیں کسی قسم کے خدشات نہیں ہیں بلکہ سیاسی پلیٹ فارم اور پارٹیاں بنانا ہر کسی کا بنیادی حق ہے یہ حق کوئی کسی سے نہیں چھین سکتا ہے نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نوابزادہ سراج خان رئیسانی نے کہا کہ حالیہ حلقہ بندیوں سے جہاں کچھ لوگ ناراض دکھائی دئے رہے ہیں تو وہاں ایسے کافی لوگ بھی موجود ہیں جو نئی حلقہ بندیوں سے بے حد خوش بھی ہوئے ہیں ۔