ایڈہاک بنیادوں پر ملک کو چلایا نہیں جا سکتا، مستقل اور طویل دورانئے پر مبنی حقیقی پالیسیوں اور منصوبہ بندیوں کی ضرورت ہیں ،ایچ ڈی پی

اتوار مئی 20:50

وئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنمائوں نے ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیوں کو ملکی اور عوامی مفادات کے مطابق اذسر نو تشکیل دہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو جس قدر نقصانات اٹھانا پڑے ہیں اس کی وجہ سے غیر حقیقی خارجہ و داخلہ پالیسیاں تھی، جس میںمعروضی اور عوامہ مفادات کو یلکسر نظر انداز کر کے ملک کو جہاد کے نام پر فسادیوں کے مرکز میں تبدیل کیا گیا اس وقت سب سے اہم اور ضروری مسلہ ملک کوآزادنہ اور عوامی مفادات پر مبنی ایسی پالیسیوں کی ہے ،جس میں دنیا بھر کے ممالک سے تعلقات پر نظر ثانی کر کے ہمسایہ ممالک کیساتھ عدم مداخلت اور بہترین تعلقات پر مبنی ترجیحات اپنائی جائے،ہزارہ ٹاون علیآباد کے موام پر منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی چیرمین عبدالخالق ہزارہ،احمدعلی کوہزاد، مھمد رضا وکیل، عزیز اللہ ہزارہ،ڈاکڑاصغر علی چنگیزی اور ساحل ہزارہ نے کہا کہ ایڈہاک بنیادوں پر ملک کو چلایا نہیں جا سکتا اس کیلئے مستقل اور طویل دورانئے پر مبنی حقیقی پالیسیوں اور منصوبہ بندیوں کی ضرورت ہیں ،ہماری بد قسمتی رہی ہے کہ ہم نے دوست منتخب کئے تو بھی ایسے کہ جن پر ایک لمحہ کیلئے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہم نے ہمسایوں کو نظر انداز کرکے ہزاروں میل دور سے دوستیاں بنا نے کی کوشش کی ،جس کے نتیجے میں ہمیں ---’’ خد اور صنم‘‘ دونوں سے محروم ہونا پڑ رہا ہیں ہماری پالیسی سازسوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیا وجوہات ہے کہ اس وقت ہم دینا پر اپنا بھروسہ برقرار رکھنے میں لگے ہوئے ہیں جن جہادیوں کو تربیت دے کر ہم دینا فتح کرنے نکلے تھے وہ آج ہمارے ملک کیلئے مصیبت بنی ہوئی ہے ، اور ہم اس غم میں مبتلا ہے کہ اپنے ملک کو کیسے بچایا جا ئے ،پارٹی رہنماوں نے کہا کہ بلوچستان ایک پر امن صوبہ تھا یہاں کے اقوام و قبائل اپنے روایات اور اقدار کے پابند اور ملک کے ساتھ انتہائی مخلص لوگوں پر مشتمل ہے۔

(جاری ہے)

یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں بھی دیگر صوبوں کی طرح اہمیت دیکر ہماری تعلیم،،روزگار،صحت اور کاروبار کو ترقی دیا جائے۔یہاں معیاری تعلیمی ادارے ،صحت کے بہترین مراکز قائم کرکے یہاں کے دستیاب وسائل کی بنیاد پر صنعتیں لگاکر سرمایہ کاری کی جائے تاکہ اس صوبے سے غربت بیروزگار اور خاتمہ ہوسکیں۔نوجوانوں کو دیگر صوبوں کی طرح معیاری تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آسکیں۔

مگر اس طرف کوئی خلوص کے ساتھ توجہ نہیں دے رہا،اس وقت صوبے میں بیروزگاری اور غربت کی شرح ملک بھر سے زیادہ ہے،ہمارے پالیسی سازوں نے بھی کبھی سنجیدگی سے اس طرف توجہ نہیں دی کہ بیروزگاری اور غربت سے متاثر ہوکر صوبے کے نوجوان فسادی مراکز کی طرف رخ کرکے ملک کو مزید پسماندگی کی طرف لے جانے کی کوشش کریں گے۔مقررین نے کہاکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت صوبے میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے،مگر صوبے کی عوام اور کوئٹہ کے شہری فسادیوں کی سازشوں سے بخوبی آگاہ ہیںاور کسی صورت ایسے سازش کو کامیاب ہونے نہیں دے گی،جسکی وجہ سے صوبے کے نوجوانوں کے درمیان فاصلے پیدا ہو۔

یہاں کے عوام اور شہری کسی قسم کی مذہبی منافرت اور فرقہ واریت پر یقین نہیں رکھتے۔ہمارے صدیوں کے رشتے چند افراد کی شر انگیزی اور فسادی سازشوں کے ذریعے متاثر نہیں ہوسکی۔۔بلوچستان کی اقوام و قبائل اور کوئٹہ کے شہری اپنے روایات اور اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے امن،رواداری اور بھائی چارگی کو کسی صورت ایسے عناصر کیلئے قربان نہیں کریں گے جو بیرونی ایجنڈوں کی تکمیل کیلئے ہماری سرزمین اور ہمارے عوام کو استعمال کر رہے ہیں۔

ہم ایسے ہر طرح کی سازشیوں کو خبردار کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے بلوچستان کی تعمیر و ترقی کیلئے اپنا خون بہایا ،ہم بحالی،حقوق،خوشحالی کیلئے ان کی پیروی کریں گے۔پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ عالمی اور بعض اسلامی ممالک کے مفادات کیلئے موجود پراکسی کے خلاف کاروائی کرنا حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں کی ذمہ داری ہے جو ممالک ہماری سرزمین اور خاک کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرکے اپنی جنگ یہاں لڑ رہی ہے وہ کسی صورت ہمارے دوست نہیں ہوسکتے۔

ہمیں اس خیال کو اپنے ذہنوں سے نکالنا ہوگا کہ ہمیں تیل اور مراعات دیکر جو کھیل یہاں کھیلنا چاہتی ہے شاید کسی برے دن ہمارے کسی کام آئیں۔ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس سے زیادہ ہم پر اور کس طرح کے برے دن آسکتے ہیں جو ہمارے اس وقت کی مجبوریوں اور مشکلات کو نہیں سمجھ رہے وہ مستقبل میں ہمارے لئے کس قسم کے اچھے دوست ثابت ہوسکے ہیں۔ہمارے جان ومال کی تحفظ اداروں پر فرض عائد ہوتاہے کہ وہ ہماری سلامتی کے خلاف متحرک پراکسز کے خلاف کاروائیاں کرتے ہوئے انہیں نیست و نابود کریں۔

ہمارے ملک کی سلامتی اور عوام کے جان ومال سے زیادہ ہمارے ملک کے اداروں کیلئے کسی اور چیز کو ترجیح حاصل نہیں ہونا چاہئے۔اس وقت جو پراکسی جس شکل میں موجود ہے ان کے خلاف فوری کاروائی ضروری ہوچکی ہے۔پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ ملک کا مستقبل ایک روشن خیال،ترقی پسند اور لبرل ملک کے تصور میں موجود ہے۔ہم روشن خیال معاشرے اور ملک کی تشکیل کی صورت میں جدید دنیا میں مقام حاصل کرکے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔

جب تک ہم انتہا پسندانہ سوچ اور نظریے پر کاربند ہیں پسماندگی،دہشت گردی،غربت اور بے توقیری ہمارے حصے میں آئیں۔اب ہمیں اپنا سوچ ،طرز فکر اور نظریہ بدلنا ہوگا ہمیں اپنے ملک ،عوام اور آنیوالے نسلوں کے لئے سوچنا چاہئے کہ کیا وہ نفرت،تعصب اور انتہا پسندی کے ذریعے زندگی بسر کرکے خوشحال رہ سکتے ہیں یا اعتدال پسندانہ،روشن خیال اور ترقی پسند سوچ کی بنیاد پر بہتر اور اچھے مستقبل کے مالک ہوسکتے ہیں۔

مقررین نے بلوچستان کی حکومت کی کارکردگی پر شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ قوم کے جان ومال کے تحفظ اور امن وامان کے قیام کو یقینی بنانے کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔مگر صوبائی حکومت نہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرسکی نہ ہی انتہا پسندوں کے خاتمہ کیلئے کسی قسم کی پیشرفت کی گئی۔آج کوئٹہ شہر کے کاروباری علاقوں میں دن دہاڑے چند افراد آکر بے گناہ افراد کو ٹارگٹ کرکے فرار ہوجاتے ہیں جنہیں روکنے والا کوئی موجود نہیں ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر ملازمتوں کے دروازے بند ہیں ۔

گزشتہ 15سالوں سے کسی محکمے میں میرٹ کی بنیاد پر روزگار فراہم نہیں کی گئی ۔اقرباء پروری،سفارش اور سیاسی وابستگیوں کی بنا پر ملازمتوں کی فراہمی نے ہمارے بنیادی ڈھانچے تک متاثر کر رکھا ہے رہنماؤں نے کہا کہ نوجوانوں سے درخواست ہے کہ وہ جذباتی نعروں اور رد عمل سے گریز کرکے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔نوجوانوں کے کسی بھی عمل کے اثرات پورے قوم کو متاثر کرسکتی ہے۔ہم ایک پر امن اور جمہوری عمل پر یقین رکھنے والے قوم ہے اور اپنی ہر قسم کے حقوق کیلئے پر امن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔