ڈیجیٹل دورمیں خبررساں اداروں کودرپیش چیلنجوں سے موثراندازمیں نمٹنے اورباہمی تعاون کے فروغ کی ضرورت ہے

مختلف ممالک کی نیوزایجنسیوں کے مشترکہ ویب پورٹل، ان کی بین الاقوامی تنظیم کے قیام، خبررساں اداروں کی کانفرنس سالانہ بنیاد پرمنعقد کرائی جائے،اس فورم کو ادارہ جاتی شکل دی جائے اے پی پی کے زیراہتمام بین الاقوامی کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کی ممتاز ملکی وغیرملکی شخصیات کی تجاویز

اتوار مئی 21:00

) اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) ذرائع ابلاغ کی ممتاز ملکی وغیرملکی شخصیات اور میڈیا پروفیشنلز نے ڈیجیٹل دورمیں خبررساں اداروں کودرپیش چیلنجوں سے موثراندازمیں نمٹنے اورباہمی تعاون کے فروغ کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے مختلف ممالک کی نیوزایجنسیوں کے مشترکہ ویب پورٹل، ان کی بین الاقوامی تنظیم کے قیام ، خبررساں اداروں کی کانفرنس کوسالانہ بنیاد پرمنعقد کرانے اوراس فورم کو ادارہ جاتی شکل دینے کی تجاویزپیش کی ہیں جبکہ اے پی پی کے زیراہتمام کانفرنس کے انعقادکو تاریخی اورقابل تحسین اقدام قراردیاہے ۔

اس بات کا اظہار قومی خبر رساںادارہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی ) کے زیراہتمام اتوار کومقامی ہوٹل میں منعقدہ خبررساں اداروں کی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران کیا گیا۔

(جاری ہے)

’’ڈیجیٹل دورمیں خبررساں اداروں کاکردار اورباہمی تعاون ‘‘ کے موضوع پر خصوصی نشست سابق وفاقی وزیراطلاعات ، مصنف اورمیڈیاعلوم کے ماہر جاوید جبارکی زیرصدارت منعقد ہوئی جس میں پاکستان سمیت 19ممالک کے مندوبین نے حصہ لیا جبکہ پینل کے دیگرشرکاء میں امریکی خبررساں ادارہ ایسوسی ایٹڈپریس کے سینئرصحافی اور مصنف منیراحمد اور اے پی پی کے سینئرصحافی شفیق قریشی شامل تھے جبکہ سینئرصحافی معظم ہاشمی نے نظامت کے فرائض سرانجام دیئے ۔

اس موقع پراظہارخیال کرتے ہوئے جاویدجبارنے کانفرنس کے انعقاد پرمسرت کااظہارکیا اوراسے تاریخی اقدام قراردیتے ہوئے امیدظاہرکی کہ اس طرح کی کانفرنسزمستقبل میں بھی منعقد ہوں گی۔اس موقع پرانہوں نے میڈیا کے شعبہ میں حالیہ جدید رحجانات ، موبائل ٹیکنالوجی اورسماجی رابطوں کی ویب سائیٹس ونیٹ ورکنگ کی اہمیت اوراس سے متعلقہ چیلنجوں پرتفصیل سے روشنی ڈالی اورکہاکہ ٹیکنالوجی میں جدت سے میڈیا اورمعلومات تک رسائی بڑھ گئی ہے، سوشل میڈیا اورانٹرنیٹ کی ترقی کے بعد ہرصارف بیک وقت خبردینے والا اورخبروصول کرنے والا بن چکا ہے، ایسے حالات میں صحافیوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہواہے، انہوں نے کہاکہ میڈیا میں منفی خبریں زیادہ جبکہ اچھی خبربہت کم دکھائی دیتی ہے، جدت اورٹیکنالوجی آنے سے دیہات اورقصبوں میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں لیکن یہ میڈیا میں بہت کم دکھائی دے رہیہیں، میڈیا موضوعاتی امورکا زیادہ اورمعروضی امورکا کم حصہ دکھاتاہے اوراس کا اظہارمیڈیا پرجاری خبروں سے بخوبی لگایا جاسکتاہے۔

انہوں نے موجودہ معاصردنیامیں نیوزایجنسی کے کردارکے بارے میں کہاکہ اس بات پرگفتگوکی جاسکتی ہے کہ قومی خبررساں اداروں کی خودمختاری یقینی بنانے کیلئے ان کاانتظام کس کے پاس ہوناچاہئیی سرکاری خبررساں اداروں کی خودمختاریکویقینی بناکر عوام میں انہیں مزید قابل اعتماد بنایاجاسکتاہے اس ضمن میں انہوں نے 1988میں پی ٹی وی کے خبرنامہ میں اہم تبدیلیوں کاحوالہ دیا جب اپوزیشن کو بھی خبروں کے بلیٹن میں کوریج فراہم کی گئی۔

اسی طرح خبری موادکی تیاری وترسیل میں بہتری اوران اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں کی استعدادکارمیں اضافہ کیلئے مسلسل تربیت کی ضرورت پرزوردیا۔جاویدجبارنے قومی خبررساں ادارہ کے زیراہتمام کانفرنس کے اقدام کوسراہتے ہوئے تجویزکیاکہ خبررساں اداروں کی بین الاقوامی تنظیم کا قیام اور قومی خبررساں اداروں کی کانفرنس کوسال یا ڈیڑھ سالہ بنیادپر منعقد کرایاجائے جبکہ اس فورم کو ادارہ جاتی شکل دینے کی ضرورتبھی ہے تاکہ اس قسم کی تعمیری سرگرمی نہ صرف جاری رہے بلکہ عملی اقدامات کی صورت گری بھی اختیارکرسکے ،انہوں نے تیونس کے خبررساں ادارے کے مندوب کی اس تجویز سے بھی اتفاق کیاکہ مختلف ممالک کی نیوزایجنسیوں کے مشترکہ ویب پورٹل قائم ہونی چاہئے ۔

امریکی خبررساں ادارہ سے وابستہ سینئرنامہ نگار اورمصنف منیراحمد نی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ جدیدصحافت اورڈیجیٹل میڈیا کے اس دورمیں نیوز ایجنسیوں کے کردارکوختم نہیں کیاجاسکتا، کیونکہ نیوزایجنسیوں کی طرف سے فراہم کردہ خبریں اورخبری مواد کو نہ صرف اخبارات بلکہ ٹی وی، ریڈیوچینل اور خبروں کی ویب سائیٹس بھی استعمال کرتی ہیں اسلئے نیوزایجنسیوں کوڈیجیٹل خبری مواد کی فراہمی اورترسیل پرخصوصی توجہ مرکوزکرناچاہئیے۔

انہوں نے کہاکہ اخبارات کی اشاعت کم ہوسکتی ہیں لیکن یہ مکمل ختم نہیں ہوسکتے۔انہوں نے شرکاء پرزوردیا کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں پاکستان کے مثبت تشخص کواجاگر کریں۔ انہوں نے خبروں کی تیاری اورترسیل میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت پرزوردیا اورکہاکہ صحافی کوزمہ داری کامظاہرہ کرناچاہئیے۔۔سوشل میڈیا کے اس دور میں خبردیتے وقت اس سچائی اورصحت کے بارے میں تصدیق کرناچاہئے۔

اے پی پی کے سینئرصحافی شفیق قریشی نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ قومی خبررساں ادارہ اے پی پی میں صحافت کے جدیدشعبے متعارف کرائے گئے ہیں جن میں ویب ٹی وی کا آزمائشی آغاز، ایڈیٹنگ سہولیات میں بہتری، ڈی ایس این جیز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اورجدید سٹوڈیوزکا قیام شامل ہے، انہوں نے کہاکہ مصدقہ خبروں کے تیزترحصول اوراس کی ترسیل اے پی پی کاطرہ امتیازرہاہے، ہمیں پرنٹ میڈیا کونیوزچینلزانڈسٹری سے درپیش مقابلے کے پیش نظرتیزی سے بدلتے ہوئے میڈیائی منظرنامہ میں خودکومتعلقہ بناکررکھناہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے صارفین(سبسکرائبرز) کی تعداد200کے قریب ہیں جن میں اخبارات، قومی نیوزچینلز، غیرملکی نیوزایجنسیاں اوربراڈکاسٹنگ ہاوسزشامل ہیں، اگرہم اپنی خدمات کووسعت دیں اوراپنے سبسکرایبرز کی ضروریات کے مطابق خدمات دیں توان کی تعداد کئی گنا بڑھ سکتی ہیں اس سلسلے میں ہمیں موجودہ صورت حال میں نیوزایجنسیوں کو بہترسے بہتربنانے پرگفت وشنیدکی ضرورت ہے۔

تیونس کے قومی خبررساں ادارہ کے ڈائریکٹرخارجہ تعلقات آلوئی چاوکی نے تجویز کیا کہ مختلف ممالک کی نیوزایجنسیوں کے مشترکہ ویب پورٹل قائم ہونی چاہئے تاکہ چیدہ چیدہ خبروں کاتبادلہ ہو اورباہمی معاملات سے بہترآگاہی ہوسکے۔ شرکا ء نے کہاکہ اس وقت یونیورسٹیوں میں جرنلزم اورابلاغ عامہ کے علوم بیشتر وہ اساتذہ پڑھا رہے ہیں جن کاعملی صحافت میں کوئی خاص تجربہ نہیں ہوتا، اس صورت حال کے تناظر میں طلباء کو عملی صحافت کی تعلیم پرتوجہ مرکوزکرنے کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ صحافت کے نصاب کونئے دورکے تقاضوں کے مطابق مرتب کرنا چاہئیے۔

لبنان کے قومی خبررساں ادارہ کی ڈائریکٹرلارے سلیمان نے کانفرنس کے انعقادکوسراہتے ہوئے کہاکہ اس قسم کی کانفرنس منعقدکرناخوش آئند ہے،انہوں نے خبررساں اداروں کے درمیان وسیع ترتعاون کی ضرورت پرزوردیا۔