سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو جہازوں پر مارخور کی مزید تصاویر لگانے سے عارضی طور پر روک دیا ، رپورٹ طلب، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے فلائٹ لیٹ ہونے پر ایم ڈی پی آئی اے سے وضاحت طلب کرلی

اتوار مئی 21:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے قومی ایئر لائن پی آئی اے کو جہازوں پر مارخور کی مزید تصاویر لگانے سے عارضی طور پر روکتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے فلائٹ لیٹ ہونے پر ایم ڈی پی آئی اے سے وضاحت طلب کر لی۔اتوار کو پی آئی اے کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پی آئی اے کے جہازوں پر قومی پرچم کی جگہ مارخور کی تصویر پرنٹ کا نوٹس لیتے ہوئے ایم ڈی پی آئی اے سے پوچھا کہ عدالت کو پتہ چلا ہے کہ آپ قومی پرچم کی جگہ پی آئی اے کے جہازوں پر کسی جانور کی تصویر لگانا چاہتے ہیں۔

ہمیں بتائیں کہ آپ جہاز کی ٹیل پر کون سے جانور کی تصویر لگا رہے ہیں۔ ایم ڈی نے کہا کہ پی آئی اے کے جہازوں پر مارخور کی تصویر لگا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک تصویر جہاز پر لگانے پر کتنا خرچہ آئے گا۔ ایم ڈی پی آئی اے نے بتایا کہ پرچم کی جگہ ایک جہاز کی دم پر تصویر لگانے پر 34 لاکھ روپے خرچہ آئے گا۔ چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ آپ عدالت میں پی آئی اے کی بہتری کیلئے اقدامات کی رپورٹ بھجوائیں اور بتائیں کہ تصویر لگانے کا ٹھیکہ کس کو دیا گیا ہے ۔

بعد ازاں عدالت نے پی آئی اے کو اپنے جہازوں پر مزید تصاویر لگانے سے عارضی طور پر روکتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ۔ دریں اثناء چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کراچی سے آنے والی فلائٹ ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ ہونے کے حوالہ سے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ایم ڈی پی آئی اے عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ان استفسار کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں کراچی سے اسلام آباد کتنے بجے پہنچا ہوں جس پر ایم ڈی پی آئی اے نے بتایا کہ جی ہمیں معلوم ہے کہ آپ رات سوا ایک بجے کراچی سے اسلام آباد پہنچے تھے۔

چیف جسٹس نے ان سے پوچھا کہ میں ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے اسلام آباد پہنچا ہوں مجھے تاخیر کی وجوہات بتائی جائیں کہ فلائٹ کیوں لیٹ ہوئی تھی۔ ایم ڈی پی آئی اے نے بتایا کہ بعض تکنیکی وجوہات کی بناء پر فلائٹ ہو گئی تھی۔ چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ میں آپ کی کارکردگی کا بھی جائزہ لوں گا۔ آپ عدالت کو بتائیں کہ آپ کی کیا قابلیت ہے۔ ایک اکانومسٹ کا پی آئی اے میں کیا کام ہو سکتا ہے۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے وضاحت طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔