آزادی اظہار کے لئے جسے بھی کوڑے لگائے گئے ہیں وہ کوڑوں کے زخم نہیں بلکہ چمکتے ہوئے میڈل ہیں، جنرل ضیاالحق کے دور میں جن صحافیوں کو کوڑے لگے انہوں نے اپنے سینوں پر چمکتے ہوئے میڈل سجائے ہوئے ہیں

سابق سینیٹر فرحت اللہ بابرکا تقریب سے خطاب

اتوار مئی 21:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ آزادی اظہار کے لئے جسے بھی کوڑے لگائے گئے ہیں وہ کوڑوں کے زخم نہیں بلکہ چمکتے ہوئے میڈل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاالحق کے دور میں جن صحافیوں کو کوڑے لگے انہوں نے اپنے سینوں پر چمکتے ہوئے میڈل سجائے ہوئے ہیں۔ یہ بات انہوں نے آج سے 40سال پہلے جن صحافیوں کو کوڑے لگائے گئے تھے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے کرائے جانے والی ایک تقریب سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ یہ صحافی مزاحمت کی نشانیاں ہیں۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں ناصر زیدی، اقبال جعفری، خاور نعیم ہاشمی اور مسعود اللہ کو کوڑے لگائے گئے۔ ان میں سے ناصر زیدی اس تقریب میں موجود تھے۔

(جاری ہے)

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ صحافی آج بھی مرئی اور غیرمرئی قوتوں کی جانب سے تشدد کا سامنا کر رہا ہے اور بظاہر اسے کوڑے نہیں لگائے جا رہے۔ انہوں نے کہا کہ 1960-70ء کی دہائی میں ریاستی عناصر نے آزادی اظہار کو کچلاا ور 1980ء کی دہائی کے بعد ریاستی اور غیرریاستی عناصر کا تشدد آزادی رائے کا راستہ روک رہا ہے۔

اس وقت پراسرار طور پر لوگ غائب کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو تشدد، فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت پھیلاتے ہیںانہیں آزادی رائے حاصل ہے جبکہ کسی بھی قسم کے متبادل بیانیہ کی بھی اجازت نہیںا ور سکیورٹی بریگیڈ کے ساتھ ساتھ آئیڈیالوجی بریگیڈ دونوں سرگرم ہیں۔ واٹر گیٹ اسکینڈل میں امریکی صدر نکسن نے قومی سکیورٹی کا سہارا لیا لیکن سپریم کورٹ نے اسے مسترد کر دیا۔

اب ہم پاکستان میں پشتون تحفظ موومنٹ کی آواز کو یہ کہہ کر مسترد کر رہے ہیں کہ انہیں بیرونی فنڈ ملتے ہیں اور یہ قومی مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ قومی مفاد پر بحث و مباحثہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے نوجوان صحافیوں سے کہا کہ وہ مزاحمت کی سیاست سیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹس جنہیں شائع نہیں کیا جا رہا ان کا حل یہ ہے کہ جو اخبارات یا رسائل انہیں نہیں شائع کر رہے کوئی معروف صحافی اس اخبار کا نام لے کر کہے کہ فلاں اخبار یہ تحقیقاتی رپورٹ نہیں شائع کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ معلومات مہیا نہ کرنا اور مخالفت کی آواز کو دبانا معاشرے میں انتشار پیدا کرتا ہے۔ میڈیا نے 1971ء میں رپورٹ کیا تھا کہ مشرقی پاکستان میں سب ٹھیک ٹھاک ہے اور صرف چند باغی آواز اٹھا رہے ہیں جنہیں کچل دیا گیا ہے۔ جس روز ہتھیار ڈالے گئے تھے اسی روز اخبارات میں جلی سرخی یہ تھی کہ جنرل نیازی اگلے چھ ماہ تک کسی بھی مدد کے بغیر لڑ سکتے ہیں۔

اس قسم کی بڑھکوں کی ہمیں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے اور ہم نے مخالفت کی آواز کو غیر محب وطن اور ریاست کے خلاف کہا۔ سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مطالبہ کیا کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو شائع کیا جائے اس کے علاوہ کراچی میں حامد میر پر حملے اور نارتھ وزیرستان میں ہدایت اللہ پر حملے کی رپورٹیں بھی شائع کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پشاور کے آرمی پبلک اسکول کی تحقیقی رپورٹ کے ساتھ ساتھ زبردستی غائب کئے گئے افراد کی 2010ء کی کمیشن کی رپورٹ بھی شائع کی جائے۔ اس تقریب سے صحافی ناصر زیدی، شکیل انجم، مبارک زیب اور ریاض خان نے بھی خطاب کیا۔