فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی کو بھارت کے شہر نئی دہلی میں منعقدہ کانفرنس میں عین وقت پر شرکت سے روکدیا

کانفرنس میں ایک سماجی موضوع پر بات ہونا تھی ،نئی دہلی میں یہ کوشش کی گئی کہ کوئی پاکستانی یہاں قدم نہ رکھے‘ بھارت سے واپسی پر گفتگو

اتوار مئی 21:20

لاہور/نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) اردو کے معروف شاعر فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی کو بھارت کے شہر نئی دہلی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں عین وقت پر شرکت سے روکدیا گیا ۔منیزہ ہاشمی کو تین روزہ 15ویں ایشین میڈیا سمٹ میں بطور مقرر مدعو کیا گیا تھا ۔۔لاہور واپس پہنچ کر برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے منیزہ ہاشمی نے بتایا کہ جب وہ کانفرنس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچیں تو ان کے ہوٹل کی بکنگ منسوخ کر دی گئی اور انہیںاس کانفرنس میں شرکت کے لیے رجسٹر ہی نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ منتظمین نے اس بارے میں انہیںمطلع کیا اور نہ ہی اس صورتحال کی کوئی توجیح پیش کی۔منیزہ ہاشمی نے بتایا کہ اس کا مقصد صرف یہی تھا کہ کوئی پاکستانی اس تقریب میں شرکت نہ کر سکے۔

(جاری ہے)

اس تقریب کا انعقاد ایشیا پیسیفک انسٹی ٹیوٹ فار براڈکاسٹنگ ڈیویلپمنٹ نے انڈین وزارت اطلاعات و نشریات کے اشتراک سے کیا تھا۔منیزہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل متعدد بار بھارت کے مختلف شہروں کا دورہ کر چکی ہیں اور اس سے قبل انہیںاس قسم کی صورتحال کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا کہ کسی تقریب میں انہیںشرکت سے روک دیا گیا ہو۔

منیزہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی قسم کے مسائل ہیں اور دونوں جانب سے لوگوں کے آپس میں میل جول سے ان کے حل میں مدد مل سکتی ہے اور امن کا یہی پیغام ان کے والد فیض نے دیا تھا۔منیزہ ہاشمی اس کانفرنس میں غیرسرکاری تنظیم کشف کی نمائندگی کر رہی تھیں اور انہوں نے یہاں جس سیشن میں گفتگو کرنا تھی اس کا موضوع ’’تمام کہانیاں کمرشل طور پر کامیاب نہیں ہوتیں تو کیا ہمیں یہ کرتے رہنا چاہیی ‘‘تھا۔

منیزہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ یہ ایک سماجی موضوع تھا اور ایسی کوئی متنازع بات نہیں تھی جس میں بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی ظاہر ہوتی لیکن نئی دہلی میں یہ کوشش کی گئی کہ کوئی پاکستانی یہاں قدم نہ رکھے۔علاوہ ازیںبھارت ٹوئٹر پر منیزہ ہاشی ٹرینڈ کر رہا ہے۔ معروف سیاسی شخصیت اور عام آدمی پارٹی کے سابق رکن پرشانت بھوشن نے لکھا’’مودی حکومت کو فیض احمد فیض کی بیٹی کو بھارت سے واپس بھیجنے اور انہیںایشیا میڈیا سمٹ میں نہ شرکت کرنے دینے کے لیے شرم آنی چاہیے‘‘۔ جبکہ معروف صحافی آر سرینواسن نے اس خبر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا’’یہ چھوٹا پن، افسوس اور انتہائی حوصلہ شکن بات ہے‘‘۔ کیا وزارت اطلاعات و نشریات/وزارت داخلہ/وزارت خارجہ میں کوئی بالغ النظر نہیں ۔