2013ء میں منظم سازش کے تحت اے این پی کو پارلیمان سے باہر رکھا گیا ،رہنما رابعہ ستار

اتوار مئی 21:20

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کی خاتون رہنما رابعہ ستار نے کہا ہے کہ 2013ء میں منظم سازش اور کوشش کے تحت پارٹی کو پارلیمان سے باہر رکھا گیا وہ قابل مذمت ہے تاہم آئندہ عام انتخابات میں سہاروں کی بنیاد پر اقتدار میں آنیوالوں کا راستہ بند ہو چکا ہے ۔ ہفتے کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت بند گلی میں داخل ہو چکی ہے اور 2018میں اے این پی عوامی اعتماد کے ذریعے بھرپور کامیابی حاصل کرے گی ۔

رابعہ ستارنے کہا کہ سہاروں کی بنیاد پر اقتدار میں آنے والے ایک بار پھر جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے نعروں کے ذریعے عوام کو ورغلانے کی سیاست کر رہے ہیں ،تاریخ گواہ ہے کہ اے این پی نے عملی اقدامات کے ذریعے عوام کی خدمت کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی اے این پی کی عوام میں مقبولیت اور قوت سے خائف اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

ان کے دماغ پر اے این پی سوار ہوچکی ہے اور انہیں معلوم ہے کہ آئندہ انتخابات میں انہیں سہاروں کی حمایت حاصل نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی ایک عوامی قوت ہے اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے جسے تسلیم کرنے کے لیے مخالفین ذہنی طور پر تیار رہیں، عوام کو معلوم ہے کہ ان کے حقوق اور بقاء کی جنگ میں پارٹیوں کا کردار کیسا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے عہدیدار اور کارکن پارٹی کا نظریاتی اثاثہ ہیں اور پارٹی عوامی خدمت اور نظریاتی ہتھیار کے بل بوتے پر آئندہ انتخابات میں بھرپور قوت کے ساتھ اُبھرے گی،،وزیر اعلیٰ اور وزراء آئندہ انتخابات کے لیے مسلسل ووٹوں کیلئے سرگرداں ہیں لیکن اب انہیں شکست سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

رابعہ ستار نے کہا کہ صوبے کے عوام کو مزید نعروں اور جھوٹے وعدوں سے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے پاس عوام کو دینے اور بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔تمام سرکاری محکمے تباہ حال ہو چکے ہیں اور محکمہ صحت خود وینٹی لیٹر پر ہے ، تعلیم کے شعبے میں حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث والدین مخمصے کا شکار رہے اور میٹرک کے گزشتہ نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔