این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کو تین فیصد حصہ ملنے سے قبائیلی علاقوں کو دس سال میں ایک ہزار ارب روپے ملیں گے،شاہ جی گل آفریدی

اتوار مئی 22:20

لنڈی کوتل۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) ممبر قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل آفریدی نے کہاہے کہ فاٹا کو دس ہزار ارب پیکج ،اکتوبر میں بلدیاتی انتخابات اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں نمائندگی بڑی کامیابی ہے۔۔پاکستان و افغانستان میں امن دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان امن و امان قائم کرنے کے لیے مزاکرات جلد شروع ہوں گے جن کیلئے پاکستان نے کمیٹی بنائی ہے جس کا میں بھی ممبر ہوں ، جلد افغانستان کا دورہ کریں گے، قبائیلی علاقوں میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہے جن کو پارلیمنٹ نے منظوری دی جس پر ہم تمام مکاتب فکر کے مشکور ہیں، آرٹیکل 247 بہت جلد ختم ھو جائے گا، قبائیلی علاقوں میں موجودہ نظام کی وجہ سے قبائیلی عوام کو بنیادی حقوق نہیں ملے رہے اس لیے اس نظام کا خاتمہ وقت کی ضرورت تھی جن کا خاتمہ کردیا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہارانہوںنے جمرود سورکمر حوالداری چوکی میں قبیلہ اسد خیل کی طرف سے منعقدہ حمایتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شاہ جی گل آفریدی نے کہاکہ فاٹا اصلاحات بل پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد صدرمملکت نے منظوری دے دی جس سے اب یہ بل باقاعدہ قانون بن گیا ہے، جس سے قبائیلی عوام کو بنیادی انسانی حقوق مل جائیں گے جبکہ قبائیلیوں کو اپیل وکیل اور دلیل کا حق حاصل ہوگیاہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹامیں اصلاحات اس ماہ نافذ کردئیے جائینگے۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کو تین فیصد حصہ ملنے سے قبائیلی علاقوں کو دس سال میں ایک ہزار ارب روپے ملے گے جس سے قبائیلی علاقوں کی پسماندگی دور ہوجائیگی، اپنے حلقہ نیابت میں ریکارڈ ترقیاتی کام مکمل کیے جبکہ باقی میگا پراجیکٹ پر کام جاری ہے جس میں جمرود بجلی گریڈ اسٹیشن،سولر ٹیوب ویلز،رابطہ سڑکیں و پل جبکہ تعلیم و صحت میں اصلاحات کرکے 70 فیصد عوام کے بہبود کیلئے استعمال میں لایا گیا۔

جلسہ عام سے ملک نصیر احمد کوکی خیل، ملک عطاء اللہ جان کے فرزند ملک زادہ الیاس کوکی خیل، احمد شاہ فریدخیل، قاری سید عالم شینواری ،الفت ملاگوری اسماعیل طورخیل مرحوم کے فرزند ملک نجیب خان عثمان شاہ،ملک تاج آفریدی،قابل خان،جلیل طورخیل اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔