ممبئی حملوں سے متعلق گمراہ کن بیان پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ختم

نوازشریف کے حالیہ بیان پر ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال پر غور

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 11:17

ممبئی حملوں سے متعلق گمراہ کن بیان پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ختم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 مئی 2018ء) : سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق گمراہ کن بیانات پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی طور پر بلایا گیا اجلاس ختم ہو گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان بھی شریک ہوئے۔

شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس ((آئی ایس آئی)) لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) محمد سیلمان خان، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی شریک تھے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ملکی سلامتی اور سکیورٹی صورتحال پر بات کی گئی ۔ وزیرا عظم کی زیر صدارت اس اجلاس میں حکومتی جماعت کے قائد نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق گمراہ کُن بیان پر بھی بات کی گئی۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے ایک جلسے میں ممبئی حملوں سے مےعل قگمراہ کُن بیانات پر گذشتہ روز پاک فوج نے اجلاس بلانے کی تجویز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو پیش کی تھی۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بتایا تھا کہ نواز شریف کے بیان پر قومی سلامتی کمیٹی نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی ہے ، اس اجلاس میں ممبئی حملوں سے متعلق میڈیا پر چلنے والے گمراہ کن بیانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں بھارتی میڈیا نے سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے ایک انٹرویو میں دئے بیانات کو اچھالا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غیر ریاستی عناصر کو یہ اجازت دینی چاہئیے کہ وہ ممبئی جا کر 150 افراد کو قتل کر دیں۔