انٹرویو میں کون سی غلط بات کی ہے ‘حق بات کرتا رہونگا ‘دنیا ہمارا بیانیہ سننے کو تیار نہیں۔ نواز شریف

ایسے شخص کو غدار کہا جا رہا ہے، جس نے ملک کو اندھیروں سے نکالا اور ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔احتساب عدالت میں صحافیوں سے گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 11:31

انٹرویو میں کون سی غلط بات کی ہے ‘حق بات کرتا رہونگا ‘دنیا ہمارا بیانیہ ..
 اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 مئی۔2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف نے نے کہا ہے کہ انٹرویو میں کون سی غلط بات کی ہے ‘حق بات کرتا رہونگا ۔۔نواز شریف کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اس انٹرویو میں ممبئی حملوں کے بارے میں ان کی بات کے تناظر میں قومی سلامتی کونسل کا اجلاس جاری ہے۔یہ اجلاس فوج کی تجویز پر طلب کیا گیا ہے اور اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں عسکری حکام اور سول قیادت شرکت کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے بات چیت میں نواز شریف نے کہا کہ اخبار پڑھیں اور پہلے یہ بتایا جائے کہ میں نے کہا کیا ہے؟نواز شریف نے اخبار کی خبر پڑھ کر سنائی اور کہا کہ اس میں کون سی غلط بات ہے؟ انٹرویو کے مطابق نواز شریف نے کہا تھا کہ عسکری تنظیمیں فعال ہیں۔

(جاری ہے)

انھیں غیرریاستی عناصر کہا جاتا ہے، کیا ہم انھیں اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کا قتل کریں؟ نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہم نے قربانیاں دی ہیں لیکن دنیا ہمارے بات ماننے کو کیوں تیار نہیں ہے۔

نان سٹیٹ ایکٹر سے متعلق بیان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مریم نواز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پھر آپ نے ضرب عضب کن کے خلاف کیا تھا۔؟جس پر نواز شریف نے مریم نواز کو جواب دینے سے منع کیا اور کہا کہ آپ نہ بولیں۔۔نواز شریف نے کہا کہ ایک ایسے شخص کو غدار کہا جا رہا ہے، جس نے ملک کو اندھیروں سے نکالا اور ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔انہوں نے پرویز مشرف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس نے آئین توڑا، ججوں کو نکالا،12 مئی کا سانحہ کروایا اسے محب ِ وطن قرار دیا جا رہے۔

نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ وہ حق بات کرتے رہیں گے چاہے انھیں کچھ سہنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ میں نے بڑا جائز سوال اٹھایا ہے۔کئی سالوں سے کہتا آ رہا ہوں کہ ہمارے 50 ہزار لوگ شہید ہوئے، جس میں آرمڈ فورسز، پولیس اور شہری شامل ہیں، اتنی قربانیوں کے باوجود آخری دنیا ہمارا بیانیہ کیوں تسلیم نہیں کرتی، جو کچھ کہا ہے بہت سے لوگ اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ میں نے جواب مانگا تھا، میرے سوال کا جواب آنا چاہیے تھا، مجھ سے پہلے بہت سے لوگ بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے والوں میں شامل ہیں، یہی وہ چیزہے جس کی وجہ سے دنیا ہمارا بیانیہ سننے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا ہمارا بیانیہ تسلیم کرنے کو کیوں تیار نہیں، ہمارا بڑا جائز سوال ہے، میڈیا میں سوال پوچھنے والے کو غدار کہہ رہے ہیں، غداراس کو کہہ رہے ہیں جس نے ایٹمی دھماکے کیے۔

میں حق بات کرتاہوں اور کرتا رہوں گا،حق بات کرنا قومی ، دینی اور اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔۔نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ کلبھوشن ایک جاسوس ہے جس نے پاکستان میں جاسوسی کی۔دوسری جانب نوازشریف کے متناز ع بیان پروزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔ اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سمیت مسلح افواج کے سربراہان شریک ہیں۔

اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجرجنرل ساحرشمشاد مرزا سمیت وفاقی وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں نوازشریف کے متنازع بیان کے بعد کی صورت حال سمیت ملک کی داخلی وخارجی سیکورٹی اور دیگرامور پر بھی غور کیا جائے گا۔