اختلافات یا کچھ اور وجہ۔۔۔

وہ اہم ترین شخصیت جس نے دعوت نامے کے باوجود قومی سلامتی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 11:31

اختلافات یا کچھ اور وجہ۔۔۔
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 مئی 2018ء) : سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ اس اجلاس میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کو شرکت کی دعوت دی گئی لیکن سید خورشید شاہ اجلاس میں پیش نہیں ہوئے۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ آج قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے دعوت نامے کا علم ہوا۔

میں نے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا موجودہ حکومت سے تعلق ہے۔ میں اپوزیشن لیڈر ہوں، اس معاملے پر حکومت ہی فیصلہ کرے کہ کیاکرنا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی فیصلہ کرے اور اس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہمیں آگاہ کریں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ قومی سلامتی ایشوز کے لیے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ خیال رہے کہ کچھ دیر قبل ہی  سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق گمراہ کن بیانات پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی طور پر بلایا گیا اجلاس ختم ہوا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان بھی شریک ہوئے۔ شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس ((آئی ایس آئی)) لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) محمد سیلمان خان، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی شریک تھے۔

اجلاس میں ملکی سلامتی اور سکیورٹی صورتحال پر بات کی گئی ۔ وزیرا عظم کی زیر صدارت اس اجلاس میں حکومتی جماعت کے قائد نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق گمراہ کُن بیان پر بھی بات کی گئی۔اس اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو بلانے کے لیے آرمی چیف نے تجویز پیش کی تھی لیکن سید خورشید شاہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔