قومی سلامتی کمیٹی کی نوازشریف کے بیان کو گمراہ کن قراردیدیتے ہوئے شدید مذمت

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی نوازشریف سے کمیٹی کے اجلاس کے بعد ملاقات ممبئی حملہ کیس میں تاخیر کا ذمہ دار پاکستان نہیں بھارت ہے، تحقیقات کے دوران اجمل قصاب تک رسائی نہیں دی گئی، اجمل قصاب کی عجلت میں پھانسی بھی مقدمہ منطقی انجام تک نہ پہنچنے کی وجہ بنی۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 11:44

قومی سلامتی کمیٹی کی نوازشریف کے بیان کو گمراہ کن قراردیدیتے ہوئے شدید ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 مئی۔2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف کے متنازع بیان پروزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سمیت مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔

اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجرجنرل ساحرشمشاد مرزا سمیت وفاقی وزراءاور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی - قومی سلامتی کمیٹی کےاجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں ممبئی حملوں سے متعلق ایک اخباری بیان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا-اعلامیے میں کہا گیا ہے ممبئی حملوں سے متعلق بیان حقائق کے منافی ہے،افسوس اور بدقسمتی ہے کہ حقائق کو شکایت کے اندازمیں غلط بیان کیا گیا- قومی سلامتی کمیٹی اس گمراہ کن بیان کی سختی سے مذمت کرتی ہے‘ بھارت نے تحقیقات کیلئے شواہد پیش نہیں کیے، اخباری خبر میں ٹھوس شواہد اور حقائق کو نظرانداز کیا گیا۔

(جاری ہے)

اعلامیے میں کہا گیا کہ ممبئی حملہ کیس میں تاخیر کا ذمہ دار پاکستان نہیں بھارت ہے، تحقیقات کے دوران اجمل قصاب تک رسائی نہیں دی گئی، اجمل قصاب کی عجلت میں پھانسی بھی مقدمہ منطقی انجام تک نہ پہنچنے کی وجہ بنی۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا آج تک کلبھوشن یادیو اور سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے معاملے میں بھارتی تعاون کا منتظر ہیں، پاکستان ہر محاظ پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں ممبئی حملوں پر 12مئی کو روزنامہ ڈان میں شائع بیان کا جائزہ لیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے نواز شریف کے بیان کی متفقہ طور پر مذمت کی گئی اور نواز شریف کا بیان متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے نوازشریف کے بیان کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا۔قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ممبئی حملوں کی تحقیقات کاذمہ داربھارت ہے پاکستان نہیں ، نوازشریف کابیان حقیقت کے منافی اور غلط فہمی پیدا کرتا ہے، ممبئی حملوں پر بھارت نے تحقیقات کیلئے شواہد پیش نہیں کئے۔

نیشنل سیکورٹی کمیٹی نے عناد کو اجاگر کرنے پر افسوس کا اظہار کیا، شرکاءکی جانب سے بھی متفقہ طور بیان کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ حقیقت کو پس پشت ڈال کرذاتی ،جھوٹی اختراعات کومسترد کرتے ہیں، بھارت نے تفتیش کے دوران متعدد بار تعاون سے انکار کیا، بھارت نے مرکزی ملزم تک رسائی دینے سے بھی انکار کیا۔یاد رہے کہ نواز شریف نے ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ انہوں نے کہا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں‘ یہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ژی جنگ نے بھی کہی۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ملک میں 2 یا 3 متوازی حکومتیں ہوں تو آپ وہ ملک نہیں چلا سکتے، ا س کے لیے صرف ایک آئینی حکومت کا ہونا ہی ضروری ہے۔انٹرویو میں نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ جانے والے ارکان بالخصوص جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سابقہ اراکین کے بارے میں کہا کہ وہ پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے، انہیں لے جایا گیا ہے‘ اور ساتھ ہی سوال کیا کہ انہیں کون لے کر گیا؟انہوں نے کہا تھا کہ عالمی برادری میں ہم نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا ہے، ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارا موقف تسلیم نہیں کیا جارہا، افغانستان کا موقف سنا جاتا ہے لیکن ہمارا نہیں، اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

بعدازیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ملاقات کی ہے اور انہیں اجلاس کے حوالے سے آگاہ کیا۔سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے ممبئی حملوں سے متعلق حالیہ متنازع بیان پر ملک بھر میں سیاستدانوں کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ختم ہونے کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نوازشریف سے ملاقات کے لیے اسلام آباد میں چوہدری منیر کی رہائش گاہ پہنچے جہاں دونوں کے درمیان ملاقات ہوئی۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران نوازشریف کے علاوہ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور اہم پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملاقات میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نوازشریف کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے متعلق آگاہ کیا جب کہ اس دوران متنازع بیان پر بھی بات چیت ہوئی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ملاقات کے دوران نگراں وزیراعظم کے اعلان کے حوالے سے بھی غور کیا گیا۔