ممبئی حملہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کا اسٹنگ آپریشن تھا ۔ رحمان ملک

نواز شریف قوم پر رحم کریں اور اپنا بیان واپس لیں، میاں صاحب آج ہی پریس کانفرنس کر کے اپنا بیان واپس لیں۔ سینیٹر رحمان ملک کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 11:44

ممبئی حملہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کا اسٹنگ آپریشن تھا ۔ رحمان ملک
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 مئی 2018ء) : پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹر رحمان ملک کا کہنا ہے کہ ممبئی حملے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا اسٹنگ آپریشن تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ میری یہ پریس کانفرنس کیس کے خلاف نہیں ہے، میری پریس کانفرنس میں کسی پر الزام تراشی نہیں ہوگی، انہوں نے کہا کہ نان اسٹیٹ ایکٹر وہ ہوتا ہے جس کو حکومت کی پُشت پناہی نہیں ہوتی۔

ممبئی حملہ کیس در اصل را کا اسٹنگ آپریشن تھا۔ میں نے اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ سے کہا کہ آپ مجھے ثبوت دیں میں ایکشن لوں گا۔ رحمان ملک نے کہا کہ ممبئی حملہ پورا کا پورا ''را'' نے کروایا تھا، بھارت ہمارے ملک میں بھی دہشتگردی کرواتا ہے ، ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات بھی بھارت ہی کی وجہ سے رُکیں ۔

(جاری ہے)

پریس کانفرنس سے خطاب میں سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ ممبئی حملہ سے متعلق نواز شریف کے بیان پر افسوس ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے ریاستی عناصر بھیج کر پاکستان میں دہشتگردی کرواتا رہا ہے۔ نواز شریف نے یہ بیان دیا ہے تو اقوام متحدہ کے طلب کرنے پر وہ کیا کہیں گے؟ڈیوڈ ہیڈلے کے سینڈیکیٹ کو بھارت کی خفیہ ایجنسی نے تیار کیا۔ اجمل قصاب کا بیان ریکارڈ کروانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اجمل قصاب بھی بھارت کا اپنا مہرہ تھا اسی لیے ہمیں اس تک رسائی نہیں دی گئی۔

رحمان ملک نے کہا کہ نواز شریف قوم پر رحم کریں اور اپنا بیان واپس لیں، میں تو کہتا ہوں کہ نواز شریف آج ہی پریس کانفرنس کر کے اپنا بیان واپس لے لیں۔میاں صاحب قوم کے سامنے کہہ دیں کہ غلطی ہوئی۔کسی پر الزام نہیں لگا رہا بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ میاں صاحب اپنا بیان واپس لیں۔ آج میاں صاحب نے پہلی مرتبہ بھارتی جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن کے خلاف بیان دیا۔

کلبھوشن یادیو تو بھارت کو حاضر سروس افسر تھا ، یہ ہوتا ہے اسٹیٹ ایکٹر۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت نے ممبئی حملہ خود کروایا تھا۔ پاکستان کسی بھی طرح ممبئی حملوں میں ملوث نہیں ہے۔واضح رہے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے انگریزی قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے عسکریت پسندوں نےہندوستان میں جاکر ممبئی حملے کیے۔

جس میں ایک سوپچاس لوگ ہلاک ہوئے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ابھی تک عدالتوں میں انکوائری چل ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے معاملات کو ٹھیک کرنے کیلئے ایک حکومت کا ہونا ضروری ہے۔ اس وقت تین متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں۔ نوازشریف کے پاکستان مخالف بیان پرسکیورٹی اداروں نے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کے ممبئی حملوں کے بیان پروزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا تھا جو آج صبح بلایا گیا تاہم اجلاس کا اعلامیہ آنا ابھی باقی ہے۔