برطانوی کمپنیوں کو اپنی کمپنیوں کے برابر تصور کرتے ہیں ، صدر اردوان

پیر مئی 11:50

لندن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے برطانیہ سے باہم مل کر ٹیکنالوجی مصنوعات کی پیداوار کی اپیل کی ہے۔ ترک نشریاتی ادارے کے مطابق دورہ برطانیہ کے دوران صدر اردوان نے لندن میں ترکی و برطانیہ سویٹ ہارٹ فورم کے اختتامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اور برطانیہ کے درمیان 500 سالہ پرانے دوستانہ تعلقات ہیں اور اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں کہ جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو ہر میدان میں فروغ ملا ہے ۔

صدر اردوان نے کہا کہ ہم برطانوی کمپنیوں کو اپنی کمپنیوں کے برابر سمجھتے اور ان میں کوئی امتیاز نہیں کرتے۔ ہم اپنی اقتصادی ترقی کی رفتار کا تحفظ کرنے اور بدلتی شرائط کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے حوالے سے پٴْر عزم ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 15 سال میں ہم نے تقریباً 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے یہ صورتحال ہمارے ملک پر اعتماد کا اظہار ہے اور دفاعی صنعت میں ہمارا باہمی تعاون ہمارے باہم مل کر بہت سی کامیابیاں حاصل کر سکنے کی خوبصورت مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے باہمی تعلقات کے موجودہ سطح تک پہنچنے میں ماضی قریب میں دونوں ملکوں میں ہونے والے ریفرنڈمز کا بھی اہم کردار ہے۔۔برطانیہ کے، سال 2016 کے ریفرنڈم میں کئے گئے، بریگزٹ کے فیصلے کے اطلاق کے لئے اقدامات کرنے پر زور دیتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ ترکی نے بھی 16 اپریل 2017 ء کے ریفرنڈم کے ساتھ نئے نظام حکومت کی منظوری دی ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں قربت پیدا کرنے والا ایک اور عنصر ترکی میں فیتو دہشت گرد تنظیم کے 15 جولائی 2016 کے حملے کے اقدام کے بعد برطانیہ کا وہ خلوص ہے کہ جس کا اس نے ترکی کے ساتھ مظاہرہ کیا۔ برطانیہ نے 15 جولائی کے بعد ایک سچا دوست ہونے کو ثبوت دیا ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ داعش خون آلود ہاتھوں وا لی ایسی دہشت گرد تنظیم ہے کہ جس کا سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو پہنچا ہے۔