حق کی بات کرتا ہوں ،ْچاہیے کچھ بھی سہنا پڑے ،ْ نوازشریف

میرے سوال کا جواب آنا چاہیے تھا ،ْآرمڈ فورسز، پولیس اور شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں ،ْ 50 ہزار لوگ شہید ہوئے ،ْ دنیا ہمارا بیانیہ تسلیم کر نے کو کیوں تیار نہیں میڈیا میں سوال پوچھنے والے کو غدار کہہ رہے ہیں ،ْغدار اٴْسے کہا جارہا ہے جس نے ایٹمی دھماکے کیے، کیا محب وطن وہ ہیں جنہوں نے آئین توڑا، ججوں کو دفاتر سے نکالا ،ْ کیا کراچی میں 12 مئی کو خونی کھیل کھیلنے والے محب وطن ہیں ،ْمیں حق بات کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا ،ْ کلبھوشن ایک جاسوس ہے جس نے پاکستان میں جاسوسی کی، کون کہتا ہے کلبھوشن جاسوس نہیں ہے ،ْمیڈیا سے بات چیت

پیر مئی 13:09

حق کی بات کرتا ہوں ،ْچاہیے کچھ بھی سہنا پڑے ،ْ نوازشریف
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ میں حق کی بات کرتا ہوں ،ْچاہیے کچھ بھی سہنا پڑے ،ْ میں نے جواب مانگا تھا میرے سوال کا جواب آنا چاہیے تھا ،ْآرمڈ فورسز، پولیس اور شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں ،ْ 50 ہزار لوگ شہید ہوئے ،ْ دنیا ہمارا بیانیہ تسلیم کر نے کو کیوں تیار نہیں میڈیا میں سوال پوچھنے والے کو غدار کہہ رہے ہیں ،ْغدار اٴْسے کہا جارہا ہے جس نے ایٹمی دھماکے کیے، کیا محب وطن وہ ہیں جنہوں نے آئین توڑا، ججوں کو دفاتر سے نکالا ،ْ کیا کراچی میں 12 مئی کو خونی کھیل کھیلنے والے محب وطن ہیں ،ْمیں حق بات کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا ،ْ کلبھوشن ایک جاسوس ہے جس نے پاکستان میں جاسوسی کی، کون کہتا ہے کلبھوشن جاسوس نہیں ہے۔

(جاری ہے)

پیر کو احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے اخبار میں شائع ہونے والے انٹرویو کا مخصوص حصہ پڑھ کر سنایا ،ْمیں نے ایسا کیا کہا ہے کونسی غلط بات کی ،ْاس کی تصدیق پہلے رحمان ملک،،،پرویز مشرف اور محمود درانی نے بھی کی ،ْجو لوگ یہاں سے گئے ان کا مقدمہ کیوں مکمل نہیں کیا گیا اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ کہا جارہا ہے کہ بھارت کی طرف سے خواہد نہیں دیئے جارہے ۔

جس پر نواز شریف نے کہاکہ ہمارے پاس بھی کم شواہد نہیں ہیں بہت شواہد ہیں ۔ نواز شریف نے کہا کہ میں کئی سالوں سے کہتا آرہا ہوں کہ اتنی قربانیاں دی ہیں ،ْدنیا ہمارا بیانیہ تسلیم کرنے کو کیوں تیار نہیں ،ْ 50 ہزار لوگ شہید ہوئے، آرمڈ فورسز، پولیس اور شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں۔۔نواز شریف نے کہا کہ میڈیا میں سوال پوچھنے والے کو غدار کہہ رہے ہیں، غدار اٴْسے کہا جارہا ہے جس نے ایٹمی دھماکے کیے، کیا محب وطن وہ ہیں جنھوں نے 71 میں ملک کو توڑا ،ْمیں حق بات کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا اور حق بات کرنا قومی، دینی اور اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا محب وطن وہ ہیں جنہوں نے آئین توڑا، ججوں کو دفاتر سے نکالا اور کیا کراچی میں 12 مئی کو خونی کھیل کھیلنے والے محب وطن ہیں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھ سے پہلے بہت سے لوگ بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے والوں میں شامل ہیں، یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے دنیا ہمارا بیانیہ سننے کو تیار نہیں۔۔نواز شریف نے کہا کہ کلبھوشن ایک جاسوس ہے جس نے پاکستان میں جاسوسی کی، کون کہتا ہے کہ کلبھوشن جاسوس نہیں ہے۔