نوازشریف نے جو کہا ایسا کچھ پاکستان کے ریکارڈ میں نہیں ،ْرحمان ملک

پیر مئی 14:15

نوازشریف نے جو کہا ایسا کچھ پاکستان کے ریکارڈ میں نہیں ،ْرحمان ملک
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جو کچھ کہا ہے پاکستان کے ریکارڈ میں ایسا کچھ نہیں ہے ،ْپاکستان کسی بھی طرح ممبئی حملہ کیس میں ملوث نہیں ہے ،ْممبئی حملہ ’را‘ کا اسٹنگ آپریشن تھا ،ْ پورا حملہ ’را‘ نے کرایا ،ْنواز شریف قوم پر رحم کریں اور اپنا بیان واپس لیں ،ْکلبھوشن کے معاملے کو فوراً نمٹایاجائے۔

پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان کسی بھی طرح ممبئی حملہ کیس میں ملوث نہیں ،ْ میں نے پہلے روز ہی کہا تھا ممبئی حملہ کیس میں بھارت ملوث ہے، ممبئی حملہ ’را‘ کا اسٹنگ آپریشن تھا ،ْ یہ پورا حملہ ’را‘ نے کرایا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس وقت کے بھارتی وزیرداخلہ سے کہا کہ ثبوت دیں ایکشن لوں گا، میں نے ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی ،ْکیس کی تحقیقات بھارت کی وجہ سے رکی ،ْ اجمل قصاب کا بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت نہیں دی گئی ،ْاجمل قصاب بھی بھارت کا اپنا مہرہ تھا، اس لیے رسائی نہیں دی گئی۔

پی پی رہنما نے کہاکہ بھارت اپنے ریاستی عناصر بھیج کر پاکستان میں دہشت گردی کراتا رہا ہے ،ْڈیوڈ ہیڈلے کے سنڈیکیٹ کو بھارت کی خفیہ ایجنسی نے تیار کیا، بھارت نے فہیم انصاری اور صباح سے کیوں تحقیقات نہیں کرائیں مطالبہ رہا ہے کہ انصاری برادرز کو پاکستان کے حوالے کیا جائے، انصاری برادر نے ’را‘ کے ایما پر ممبئی حملوں میں سہولت سہولت کار کا کردار ادا کیا، ڈیوڈ ہیڈلے کی بھی ’را‘ نے مکمل حمایت کی تھی۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ میاں نواز شریف پر آرٹیکل 6 نہیں لگتا، پاکستان کے ریکارڈ میں ایسا کچھ ہے ہی نہیں جو نواز شریف نے کہا، ان کے بیان پر افسوس ہوا، نوازشریف نے یہ بیان دیا ہے تو اقوام متحدہ کے طلب کرنے پر وہ کیا کہیں گی نواز شریف قوم پر رحم کریں اور اپنا بیان واپس لیں، قوم کے سامنے کہیں کہ غلطی ہوئی۔۔رحمان ملک نے کہاکہ نان اسٹیٹ ایکٹر وہ ہوتا ہے جس کو حکومت کی پشت پناہی نہیں ہوتی، کلبھوشن تو بھارت کا سرونگ افسر تھا، یہ ہوتا ہے اسٹیٹ ایکٹر۔

انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے پہلی مرتبہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے خلاف بیان دیا ،ْپاکستان میں ہزاروں لوگ کلبھوشن کی وجہ سے جاں بحق ہوئے، ان کے لیے بھی وہ کچھ کہہ دیتے، میں نے بار بار کہاکہ کلبھوشن کے معاملے کو فوراً نمٹایاجائے، کلبھوشن کے معاملے پر تاخیر ہوئی تو بھارت انٹرنیشنل عدالت میں چلا گیا۔