10 ماہ میں تجارتی خسارہ30ارب ڈالر سے تجاوز کرنا تشویشاک ہے‘شفیق اے نقی

برآمدات میں اضافہ سے ہی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے اور تجارتی خسارہ میں کمی ہوگی، برآمدات میں اضافہ کیلئے صنعتی شعبہ کیلئے سستی توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے ‘چیئرمین لاہور ٹائون شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن

پیر مئی 14:26

10 ماہ میں تجارتی خسارہ30ارب ڈالر سے تجاوز کرنا تشویشاک ہے‘شفیق اے نقی
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) چیئرمین لاہور ٹائون شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن ڈاکٹر شفیق اے نقی نے وزارت خزانہ و تجارت کی ناقص پالیسیوں کے باعث درآمدات اور برآمدات میں واضع فرق کی وجہ سے پاکستان کو رواں مالی سال کے ابتدائی 10ماہ جولائی تا اپریل کی تجارت میں 30ارب 21کروڑ70لاکھ ڈالر کے تجارتی خسارہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق یہ تجارتی خسارہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 26ارب43کروڑ60لاکھ ڈالر کی منفی تجارت سے 14.30فیصد یا 3ارب8کروڑ10لاکھ ڈالر زیادہ ہے جس کے باعث حکومت کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور حکومتی قرضوں میں اضافہ ہوا۔

انہوںنے کہا کہ برآمدات میں اضافہ کیلئے مثبت اقدامات اور خصوصی مراعات ازحد ضروری ہے برآمدات میں اضافہ سے ہی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے اور تجارتی خسارہ میں کمی ہوگی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوںنے سینئر وائس چیئرمین میاں شہریار علی ،حافظ ایم عمران حمید وائس چیئرمین کے ساتھ ٹائون شپ انڈسٹریز کے صنعتکاروں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

شفیق اے نقی نے کہا کہبڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے برآمدات میں اضافہ کیلئے سستی توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے کیونکہ خطے کے دیگر ممالک میں گیس اور بجلی کے نرخ پاکستان کے مقابلے میں پچاس فی صدتک کم ہیں اس کے علاوہ وہاں کم اجرتوں پر دستیاب افرادی قوت کے باعث ان ممالک کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوگا اس لیے گیس اور بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ صنعتی پیداوار پر آنے والی لاگت میں اضافے کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں جاری مسابقت میں پیچھے رہی ہیں اور اسی وجہ سے ان کی جگہ دیگر ممالک کی مصنوعات لے رہی ہیںانہوںنے مزید کہا کہ برآمدا ت میں اضافہ کیلئے مراعات اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی فوری ادا کیے جائیں کیونکہ برآمدات کنندگان سرمائے کی کمی کا شکار ہیںبرآمدات میں کمی کی ایک یہ بھی اہم وجہ ہے اس جانب خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ برآمدات کسی بھی ملک کی معیشت کے استحکام کی ضامن ہیں۔