موسم گرما کے دوران شکر قندی کو کم پانی اور تھوڑی کھاد سے بھی کاشت کیا جا سکتا ہے، ماہرین زراعت

پیر مئی 14:38

فیصل آباد۔14 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ شکر قندی موسم گرما کی ایک اہم اور نقد آور فصل ہے جسے کم پانی اور تھوڑی کھاد سے بھی اگایا جا سکتاہے جبکہ اس کا بیج بھی انتہائی کم خرچ ہے جس کے باعث کاشتکار بہترمالی منافع حاصل کر سکتے ہیں ۔ انہوںنے بتایاکہ شکر قندی میں 30 سے 35 فیصد تک کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو انسانی جسم کیلئے انتہائی مفید ہوتے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ شکرقندی کی کاشت ایسے کاشتکاروں کیلئے بھی بھاری مالی منفعت کا باعث بنتی ہے جن کے پاس فصلوں کی کاشت کیلئے زیادہ سرمایہ نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ شکرقندی کی کاشت میں بیج کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہوتا کیونکہ اس فصل کی کاشت کیلئے بیلیں کاٹ کر لگائی جاتی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ وائٹ سٹار قسم کی شکر قندی کی کاشت بمپر کراپس کی ضامن ہوتی ہے جو سفید رنگ کی اچھی پیداوار دینے والی قسم ہے ۔ انہو ں نے بتایاکہ ریتلی میرا ، پانی کے نکاس والی زمین میں فی ایکڑ 200 کلوتک شکر قندی کا بیج کاشت کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں مزید معلومات ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے بھی لی جا سکتی ہیں۔

متعلقہ عنوان :