نواز شریف کا انٹرویو میں ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان

انٹرویو پھیلانے والے وہی ہیں جنہوں نے نیوز لیکس میں اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 14:23

نواز شریف کا انٹرویو میں ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 مئی 2018ء) : نواز شریف کا ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان گزشتہ دو روز سے خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے انٹرویو اور بھارتی میڈیا کے واویلا کرنے کےبعد پاکستان کے اہم حلقے نواز شریف سے سخت نالاں ہیں، نیوز لیکس رپورٹ کو عام کرنے اور نواز شریف خاندان کے بھارتی اہم افراد کے ساتھ کاروباری تعلقات اور ان کی ملاقاتوں کے حوالے سے بھی کئی اہم شواہد سامنے لانے پر غور شروع ہو گیا ہے۔

نواز شریف نے متنازعہ انٹرویو کس منصوبہ بندی کے تحت دیا اور پاکستان پر عالمی دباؤ ڈلوانے کی اس سازش میں کون کون شامل ہے ، اس پر اداروں نے کام شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انٹرویو کو بھارتی اور عالمی میڈیا میں پھیلانے کے پیچھے نواز شریف کے وہی قریبی ساتھی ہیں جنہوں نے نیوز لیکس میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

(جاری ہے)

بعض ذرائع کے مطابق انٹرویو کے پیچھے محمود اچکزئی اور کئی اہم رہنما شامل ہیں جنہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اب اداروں کے ساتھ تصادم کے ساتھ ساتھ باقاعدہ انٹرنیشنل دباؤ ڈلوانے کے لیے ایسی گیم کھیلی جائے کہ اداروں کو مجبوراً نواز شریف کے ساتھ ڈیل کرنی پڑے ، اس ضمن میں باقاعدہ بھاری فنڈنگ کی اور سرکاری ذرائع کا استعمال کیا گیا ۔

کئی اہم قومی اداروں کے خلاف انتظامات کے حوالے سے نواز شریف نے تین بھارتی ٹی وی چینلز اور دو بھارتی میڈیا ہاؤس کو انٹرویو دینے کا پروگرام بھی بنا رکھا تھا جس میں باقاعدہ پاکستان کے دو میڈیا ہاؤسز کو انوالو کر رکھا تھا اور یہ انٹرویوز لاہور میں ہونا تھے۔ لیکن بروقت پلاننگ کی اطلاع ہونے پر یہ انٹرویو منسوخ ہو گئے جس کے بعد نواز شریف کے ایک قریبی ساتھی نے دوسرے طریقہ سے پاکستان کے اہم اداروں کو بدنام کرنے اور پاکستان کے خلاف باقاعدہ انٹرنیشنل سازش کے لیے نئی منصوبہ بندی کے تحت یہ سب کچھ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں ایک مزید نیا انٹرویو بھی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، یہ انٹرویو دو غیر ملکی چینلز کو دیا جائے گا اور نواز شریف کے علاوہ بھی ن لیگ کی دو اور شخصیات بھی پاکستان کے اہم اداروں کے خلاف انٹرنیشنل میڈیا میں زہر اُگلنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان مخالف انٹرویو کے شائع ہونے سے قبل محمود اچکزئی کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی کو بھی اعتماد میں لیا گیا تھا۔