الیکشن کمیشن کی درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں بھرتیوں اور ترقیاتی کاموں پرپابندی کاحکم چیلنج کیا تھا، سپریم کورٹ کے حکم پراب نئے ترقیاتی منصوبوں،تبادلوں اوربھرتیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔اعلامیہ الیکشن کمیشن

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر مئی 14:59

الیکشن کمیشن کی درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14مئی 2018ء) : سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،جس کے باعث نئے ترقیاتی منصوبوں،تبادلوں اوربھرتیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ نئےترقیاتی منصوبوں اوربھرتیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔

سپریم کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔۔الیکشن کمیشن کے مطابق تمام صوبوں میں آئندہ عام انتخابات تک نئی ترقیاتی اسکیموں کے اجرا پر پابندی تا حکم ثانی برقرار رہے گی۔۔الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ڈاکٹرز اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تعیناتیوں اوربھرتیوں پر پابندی عائد نہیں۔

(جاری ہے)

تاہم اہم تقرریوں کیلئے الیکشن کمیشن کو درخواست دی جاسکتی ہے۔

واضح رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا وفاق اور صوبوں میں 11اپریل کا بھرتیوں اور ترقیاتی منصوبوں پرپابندی کانوٹیفکیشن کالعدم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کی عام انتخابات2018ء کے انعقاد کیلئے تیاریاں فائنل مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کو صاف شفاف بنانے کیلئے نہ صرف اقدامات کیے جارہے ہیں بلکہ ووٹرز لسٹوں اورانتخابی عملے کی تربیت بھی شروع کردی ہے۔ جن میں ریٹرننگ آفیسراوراسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسرودیگرعملہ بھی شامل ہے۔ الیکشن کمیشن نےصاف شفاف انتخابی عمل کویقینی بنانے کے تناظر میں ہی وفاقی اور صوبوں میں ترقیاتی کاموں ، بھرتیوں اورتبادلوں پر پابندی عائد کی تھی۔

تاکہ الیکشن کے بعد کوئی جماعت پری پول دھاندلی کا الزام عائد نہ کرسکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عام انتخابات 2018ء کا صاف شفاف انعقاد اور پولنگ کے دوران سکیورٹی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ الیکشن 2013ء کے فوری بعد الیکشن کمیشن پردھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔ تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ لاہور میں مختلف پولنگ اسٹیشنز پردھاندلی ہوئی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے دھاندلی کو بے نقاب کرنے کیلئے اسلام آباد میں ایک سوچھبیس دن کا دھرنا بھی دیا۔ تاہم عمران خان کے مطالبے پرچار حلقے بھی کھولے گئے۔ تاہم اس بار الیکشن میں دو بڑی جماعتوں میں ٹف مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ۔ ان میں پاکستان مسلم لیگ ن اور دوسری جماعت تحریک انصاف ہے ۔اسی طرح پیپلزپارٹی اورمذہبی اتحاد ایم ایم اے بھی الیکشن میں بھرپورانداز میں اترنے کیلئے تیاری کررہے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر حلقہ بندیوں کا کام بھی مکمل کرلیا ہے۔تاہم ملک بھر میں اکثر حلقے ایسے ہیں جو تبدیل کردیے گئے ہیں۔ جن پر سیاسی جماعتوں کے منتخب اور نامزد امیدواروں نے شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ تاہم اب الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018ء کیلئے2 تاریخیں سامنے آگئی ہیں،،الیکشن کمیشن نےعام انتخابات کے لیے 25 یا 26 جولائی کوپولنگ کی تاریخوں پرغور شروع کردیا ہے۔