ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان، نواز شریف پر ملک چھوڑنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا

شہباز شریف بھی اس تجویز کے حامی ، نواز شریف نے اس تجویز کو یکسر مسترد کردیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 15:38

ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان، نواز شریف پر ملک چھوڑنے کے لیے دباؤ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 مئی 2018ء) : سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق حالیہ بیان پر انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے ۔ آج صبح وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے شرکا نے بھی اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے غلط اور گُمراہ کُن قرار دیا تھا ۔ نواز شریف کے اس بیان پر جہاں سیاسی حریف ان کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں وہیں ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی نواز شریف سے سخت نالاں ہیں، سینئیر صحافی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام کہا کہ ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان پر نواز شریف پر پاکستان چھوڑنے کے لیے دباو بڑھ گیا ہے۔

نواز شریف کو ملک چھوڑنے کی تجویز پیش کی گئی۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی اس تجویز کے حامی ہیں۔ چودھری نثار علی خان نے لیگی رہنماؤں سے لابنگ شروع کر دی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ نواز شریف کو آئندہ الیکشن تک بیرون ملک قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے جسے سابق وزیراعظم نواز شریف نے رد کردیا ہے۔ نواز شریف نے موقف اپنایا کہ میں پاکستان میں ہی رہوں گا ،چاہے جیل میں رہوں۔

ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے نواز شریف سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شہباز شریف ملاقات میں نواز شعریف کو ملک سے باہر قیام کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔
واضح رہے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے انگریزی قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے عسکریت پسندوں نےہندوستان میں جاکر ممبئی حملے کیے۔ جس میں 150  لوگ ہلاک ہوئے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ابھی تک عدالتوں میں انکوائری چل ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے معاملات کو ٹھیک کرنے کیلئے ایک حکومت کا ہونا ضروری ہے۔ اس وقت تین متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں۔