دریائے نیلم پُل پر حادثہ ، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر جعلی نکلی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 15:52

دریائے نیلم پُل پر حادثہ ، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر جعلی نکلی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 مئی 2018ء) : دریائے نیلم پر گزشتہ روز جاگراں پل کے گرنے سے 25 سے زائد طلباءو طالبات دریا میں بہہ گئے تھے جن کا تعلق فیصل آباد کے نجی کالج اور لاہور کے میڈیکل کالج سے تھا ۔ وادی نیلم میں پُل ٹوٹنے سے ڈوب کر جاں بحق ہونے والوں کی تلاش کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ڈوبے افراد کی تلاش اور ان کو بچانے کے لیے پاکستان نیوی کے سپیشل غوطہ غور ریسکیوآپریشن میں حسصے لے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پرپُل ٹوٹنے سے پہلے کی تصاویر سامنے آئیں جس کے بعد اب پُل ٹوٹنے کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے ۔ دریائے نیلم کے پُل پر کھڑے طلبا و طالبات کی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جنہیں دیکھ کر صارفین آبدیدہ ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق اب تک سات طلباءوطالبات کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ مزید کی تلاش جاری ہے۔

(جاری ہے)

3 بسوں پر 66 طلباءوطالبات سمیت 70 افراد تفریح کیلئے وادی نیلم گئے تھے۔

سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر کو اس حادثے سے چند منٹ پہلے کی تصاویر قرار دے کر شئیر کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ''ٹور دی پاکستان''' کی تصویر پر اس کمپنی کے مالک کا بیان بھی سامنے آ گیا ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر اپنے بیان میں ابوذر خان نے کہا کہ خدارا اپنے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دیں، سوشل میڈیا پر میری اور میرے ساتھیوں کی تصاویر کو اس حادثے سے منسوب کیا جا رہا ہے جبکہ میں اور میرے ساتھی بالکل صحیح سلامت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تصویر ایک ماہ قبل لی گئی تھی۔ اس تصویر کو حادثے سے منسوب کیے جانے کے بعد مجھے کئی کالز اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور اب میں سب کو یہ بتا بتا کر تھک چکا ہوں کہ میں اور میرے ساتھی زندہ اور صحیح سلامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کمپنی کا چیف ایگزیکٹر آفیسر ہوں اور اس تصویر میں میں خود بھی موجود ہوں۔

ابوذر نے کہا کہ بغیر سوچے سمجھے اس تصویر کو وائرل کرنے سے ہمیں کافی مشکل اور پریشانی کا سامنا ہے۔ لہٰذا تمام سوشل میڈیا صارفین سے گزارش ہے کہ ہماری تصاویر کو اس حادثے سے منسوب کر کے ہماری پریشانی میں مزید اضافہ نہ کیا جائے۔