حج و عمرے پر ویزہ فیس وصول کرنے کی افواہیں

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پہلی بار حج اور عمرے پر آنے والوں کو ویزہ فیس سے استثنیٰ دے رکھا ہے

Sadia Abbas سعدیہ عباس پیر مئی 16:05

حج و عمرے پر ویزہ فیس وصول کرنے کی افواہیں
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) سعودی وزیر حج نے پہلی دفعہ حج و عمرے پر آنے والوں سے ویزہ فیس وصول کیے جانے کی خبروں کی تردید کر دی ہے مزید تفصیلات کے مطابق وزیر حج ڈاکٹر محمد صالح بنتن نےمقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے وضاحت دی ہے کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پہلی بار حج اور عمرے پر آنے والوں کو ویزہ فیس سے استثنیٰ دے رکھا ہے اور انہوں نے وزارت کو اس حکم کر عمل پیرا رہنے کی تاکید کی ہے ۔

مقامی ذرائع کے مطابق وزیر حج ڈاکٹر محمد صالح بنتن کا کہنا ہے کہ پہلی دفعہ حج و عمرے پر آنے والوں سے ویزہ فیس وصول کی جانے کی افواہیں بے بنیاد ہیں ۔ وزارت کسی بھی شخص سے پہلی دفعہ حج و عمرے پر آنے کے لیے ویزہ فیس وصول نہیں کر رہی ہے ۔ وزیر حج نے اس دعوے کی مکمل طور پر تردید کردی۔

(جاری ہے)

یہ اعلامیہ انہوں نے اس وقت جاری کیا جب وہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی شریف کے سربراہ اعلیٰ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس سے ہونے والی ملاقات کے موقع پر اظہار خیال کررہے تھے۔

وزیر حج نے کہا کہ حرمین شریفین جنرل پریذیڈنسی نمایاں کام انجام دے رہی ہے اور وزارت حج کی شراکت سے کام کررہی ہے۔ وزارت حج و عمرہ نے رواں سال حج کیلئے داخلی معلمین کے لےی بھی نئے حج ع ومرہ پیکجز کا اعلان جاری کر دیا تھا ۔وزارت نے کہا تھا کہ ایک حج ""حج المیسر‘‘ کے نام سے ہوگا۔ اس کی فی کس فیس 3465ریال ہوگی۔ سب سے مہنگا پیکیج جمرات کے پل سے متصل ’’ابراج‘‘کے رہائشیوں کیلئے ہوگا۔

11905ریال ایسے عازمین حج سے لئے جائیں گے جو مذکورہ 6 ٹاورز میں سے کسی ایک میں رہائش پسند کرینگے۔ وزارت نے واضح کیاکہ فیس ادا کرنے سے قبل ریزرویشن کی منسوخی مفت ہوگی جبکہ فیس ادا کرنے کے بعد 7ذی الحجہ تک منسوخی پر 100فیصد تک کٹوتی ہوسکتی ہے۔ وزارت حج کا کہنا ہے کہ الحج المیسر پروگرام کے تحت امسال 10ہزار افراد حج کرسکیں گے۔