قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس: نواز شریف کا بیان متفقہ طور پر مسترد

نواز شریف کا بیان گمراہ کن اور قابل مذمت ہے ،قومی سلامتی کمیٹی ممبئی حملوں میں پاکستان نے مکمل تعاون کیا ذمہ دار پاکستان نہیں بھارت خود ہے ،حملوں کی تحقیقات میں پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کوبھی بھارت نے نظر انداز کیا، اہم ملزم اجمل قصاب تک تحقیقات میں رسائی نہیں دی ،کلبھوشن اور سمجھوتا ایکسپریس کے معاملے پر پاکستان کے تحفظات بھی دور نہیں کیے گئے، سابق وزیر اعظم کے بیان سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا ،پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے ،مشترکہ اعلامیہ

پیر مئی 16:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس نے متفقہ طور پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے 12مئی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افسوس اور بدقسمتی ہے کہ حقائق اور شواہد کو نظر انداز کرکے ذاتی مفروضوں کی بنیاد پر بیان دیا گیا حالانکہ بھارت نے ممبئی حملوں کے تحقیقات پر پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو نظر انداز کیا اور اجمل قصاب سے تحقیقات کی رسائی نہیں دی بھارت نے سمجھوتا ایکسپریس اور کلبوشن یادیو پر پاکستان کے تحفظات دور نہیں کیے جو زیادتی ہے پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کی لئے پرعزم ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پیر کے روز قومی سلامتی کمیٹی کا 22 واں اجلاس وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں2گھنٹے تک ہوا جس میں وفاقی وزراء ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت پاک بحریہ کے سربراہ ظفر محمود عباسی اور پاک فضائیہ کے ائیر چیف مارشل مجاہد انور ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی آئی بی محمد سیلمان خان، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیاجس میں بتایا گیا کہ اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے 12مئی کو ممبئی حملوں سے متعلق ایک اخباری بیان کا تفصیلی جائزہ لیا گیاجس میں نوازشریف کے بیان کی متفقہ طور پر پُرزور الفاظ میں مذمت کی گئی،اجلاس کے شرکاء نے نوازشریف کے بیان میں لگائے گئے الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بیان بالکل غلط اور گمراہ کن ہے جوکہ ذاتی مفروضوں کی بنیاد پر حقائق اور شواہد کو نظر انداز کرکے دیا گیا جس سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور افسوس اور بدقسمتی ہے کہ حقائق کو شکایت کے اندازمیں غلط بیان کیا گیا، اس اخباری بیان میں ٹھوس شواہد اور حقائق کو نظر انداز کیا گیا جو کہ سچ سے کئی میلوں دور ہے اس کے علاوہ اجلاس میں ممبئی حملوں کی تحقیقات منطقی انجام تک نہ پہنچانے کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا گیا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں میں تحقیقات کیلئے پیشکش کی تھی لیکن بھات نے شواہد پیش نہیں کیے اور کیس کے مرکزی ملزم اجمل قصاب تک تحقیقات کی رسائی بھی نہیں دی اور اجمل قصاب کی غیرمعمولی طور پر جلد بازی میں پھانسی کیس کے منطقی انجام میں رکاوٹ بنی اس کے علاوہ بھارت نے سمجھوتا ایکسپریس اور کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں سے متعلق بھی تحفظات دور نہیں کیے جو کہ بہت بڑی ذیادتی ہے اجلاس میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کی خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا اور اس حوالے سے مزید حفاظتی اقدامات بھی آگے بڑائے گا پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کی خاتمے کے لئے پرعزم ہے