حکومت برآمد کنندگان کو سیلز ٹیکس کی مد میں 100ارب روپے ریفنڈ کلیمز کی ادائیگی کردے گی، ڈاکٹرمفتاح اسماعیل

پیر مئی 17:06

حکومت برآمد کنندگان کو سیلز ٹیکس کی مد میں 100ارب روپے ریفنڈ کلیمز کی ..
!کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ رخصتی سے قبل حکومت برآمد کنندگان کو سیلز ٹیکس کی مد میں 100ارب روپے ریفنڈ کلیمز کی ادائیگی کردے گی، منگل کو وفاقی بجٹ قومی اسمبلی سے منظورکرالیا جائے گا جبکہ اگلے چند روز میں برآمدکنندگان کے لئے پیکج کا اعلان بھی کریں گے جس میں برآمدکنندگان کو مراعات اور ترغیبات فراہم کی جائیں گی۔

ہفتے کو پی ایچ ایم اے ہاؤس میں کونسل آف ٹیکسٹائل ایسو سی ایشنز کے تحت برآمدکنندگان کے اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ رواں سال 23ارب ڈالر کی برآمدات ہوں گی جبکہ اگلے مالی سال میں برآمدات 28ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیں گی۔ برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے روپے کی قدر میں کمی اور حکومت کی طرف سے دی جانے والی مراعات کے باعث مارچ میں برآمدات 24فیصد جبکہ اپریل میں 18فیصد بڑھی ہیں، تجارتی خسارہ کم کرنے کے لئے درآمدات میںمیں 5فیصد کمی اور برآمدات میں 20فیصد افزائش کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

صنعتوں کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لئے حکومت خام مال پر ریگیولیٹری ڈیوٹیز ختم اور کم کررہی ہے۔ انھوں نے ایکسپورٹرز کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ڈسپرس اور ری ایکٹو ڈائز جس کا ٹیکسٹائل میں 100فیصد استعمال ہوتا ہے کی ڈیوٹیز بھی 17فیصد سے کم کرکے 5فیصد کر دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی درآمدات سے نہیں بلکہ برآمدات بڑھنے سے ہوتی ہے، زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے اور بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور اس کے لئے برآمدکنندگان کے ریفنڈ کلیمز سمیت تمام مسائل ترجیحی بنیاد پر حل کئے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بینکوں اور کارپوریٹ سیکٹر کے لئے سیلز ٹیکس میں ایک فیصد، کارپوریٹ سیکٹر کے لئے انکم ٹیکس میں ایک فیصد جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لئے انکم ٹیکس میں 15فیصد کمی کر کے انہیں ریلیف فراہم کیا ہے، انہوں نے کونسل کے چیئرمین زبیرموتی والاکے مطالبہ پر پرانے ڈی ایل ٹی ایل کی مد میں ریفنڈ کلیمز کی ادائیگی کے لئے ٹائم بارڈ کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایل ٹی ایل کے رکے ہوئے کلیمز کی 50ارب روپے کی ادائیگی کے لئے کوئی متفقہ حل نکال لیا جائے گا۔

انہوں نے اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی کی اسٹچنگ یونٹس کی ڈی ٹی آر ای کے تحت کاٹن یارن برآمد کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے نٹ ویئر کی برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا۔مفتاح اسماعیل نے کونسل آف ٹیکسٹائل ایسو سی ایشن کی تمام ٹیکسٹائل سیکٹر کو 4فیصد ری بیٹ دینے اور برآمدات میںاضافے پر مزید ایک سے 2فیصد ری بیٹ دینے کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

قبل ازیں زبیر موتی والا ، جاوید بلوانی اور رفیق گوڈیل نے ریفنڈز کی عدم ادائیگی سے برآمد کنندگان کے لئے جنم لینے والی مالی بحران کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے برآمدکنندگان کی بقا کا مسئلہ ہے کیونکہ ان کا ورکنگ کیپٹل تیزی سے کم ہورہا ہے اور اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ کاروبار سے نکل جائیں گے، حکومت کو کوئی ایسا حل نکالنا چاہیئے کہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔

انہوں نے مفتاح اسماعیل کے آئی ایم ایف میں نہ جانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ آرپی اوز کو اگر بینکنگ انسٹرومنٹ بنادیا جائے تو برآمدکنندگان بینکوں سے پیسے لے کر اپنا کاروبار باآسانی چلاسکیں گے۔ انہوں نے ای ڈی ایف سرچارج کے کھاتے میں موجود 28ارب کے مکمل استعمال تک برآمدکنندگان کی ترسیلات سے کٹوتی نہ کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ برآمد کنندگان سے فائنل ٹیکس ریجیم کے طور پر لیئے جانے والے ایک فیصد ٹیکس کو کم کر کے 0.5فیصد کیا جانا چاہیئے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ مینوفیکچرنگ کم ایکسپورٹ یونٹس جن میں اکثریت اسمال و میڈیم سائز یونٹس کی ہے کو ڈی ٹی آر ای اسکیم کا فائدہ دیا جائے جس کے مطابق وہ خام مال بشمول یارن امپورٹ کر سکیںلہٰذا ڈی ٹی آر ای کے متعلقہ قوانین میں ترمیم کی جائے۔ اسی طرح ممبر کسٹمز ایف بی آر کے ساتھ کئی قوانین میں ترمیم کے حوالے سے بات چیت ہو چکی ہے جس پر انھوں نے اتفاق کیا ہے۔

انھوں نے وزیر خزانہ سے درخواست کی کہ ان تجویز کردہ قوانین میںترمیم کو منظورشدہ بجٹ میں شامل کر دیا جائے جس پر وزیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی۔اسی طرح انھوں نے وی باک سسٹم میں مقامی خریداری کو لائسنس، انالسس کارڈ اور گڈز ڈکلریشن کے حوالے سے قوانین میں ترمیم کی درخواست کی کیونکہ مقامی طور پر خریدی گئی مصنوعات کا استعمال بہت ذیادہ ہے جس کو مکمل طور پر ڈکلیر کرنا بہت مشکل ہے ، لہٰذا متعلقہ قانون میں مقامی طور پر خریدی گئی مصنوعات کو سسٹم میں ڈکلیر کرنے کے قانون کو حذف کردیا جائے۔

آخر میں انھوں نے کہا کہ اگر حکومت ایکسپورٹ کر بڑھانے میں سنجیدہ ہے تو منیوفیکچرنگ کی لاگت میں اضافے کی مکمل ٹریکنگ کرنی ہوگی اور جب بھی ملک میں کاروبار کو چلانے یا مینوفیکچرنگ کی لاگت میں مختلف وجوہات کی بنا پراضافہ ہو ا توحکومت ایکسپورٹ سیکٹر کے ردعمل کا انتظار کئے بغیر ایکسپورٹ سیکٹر کو ترغیبات اور سہولیات فراہم کرے جس پر وزیر خزانہ نے اتفاق کیا۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے یقین دلایا کہ ایکسپورٹ سیکٹر کی تجاویز اور سفارشات پر لازمی غور کیا جائے گا اور ان پر ایکشن بھی ہوگا۔