اسرائیل،امریکی سفارتخانے کی متنازعہ علاقہ میں منتقلی،ایک جانب تعریف تو دوسری جانب فلسطینی مظاہرین کی آہ و بکاجاری

پیر مئی 17:51

تل ابیب(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کی متنازعہ علاقے میں منتقلی کے موقع پر کہیں تعریف وتوصیف کے قلابے ملائے جا رہے ہیں تو دوسری طرف فلسطینی مظاہرین کی آہ و بکا جاری ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں امریکی سفارت خانہ آج پیر کے روز تل ابیب سے یروشلم منتقل ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے امریکی وفد جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سینیئر مشیر جیراڈ کٴْشنر اور بیٹی ایوانکا ٹرمپ اس حوالے سے ایک تقریب میں شرکت کے لیے پہنچ رہا ہے۔

ادھر امریکی سفارت خانے کی متنازعہ علاقے میں منتقلی کے موقع پر مغربی کنارے میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت امریکا کی یروشلم کے حوالے سے کئی دہائیوں کی پالیسی میں تبدیلی اور یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم کا تاریخی حصہ سن 1967 کی جنگ میں قبضے میں لیا تھا اور عالمی برداری اسے اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتی ہے۔

متعلقہ عنوان :