اسرائیلی فوج کا فلسطینی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ‘ 35 افراد شہید‘ 1500 سے زائد زخمی

ہزاروں فلسطینی سفارت خانے کی منتقلی کے خلاف سراپا احتجاج ‘ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس کی باعث شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔نشریاتی ادارے کی رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 17:15

اسرائیلی فوج کا فلسطینی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ‘ 35 افراد شہید‘ ..
یروشلم(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 مئی۔2018ء) غزہ میں احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے 35 فلسطینی ہلاک جبکہ 1500 سے زائد زخمی ہوگئے۔عرب نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سرحد سے ملحقہ علاقے غزہ پٹی پر امریکی سفارتخانے کی یروشلم ( بیت المقدس) منتقلی اور افتتاح کے خلاف فلسطینی احتجاج کر رہے تھے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے ان پر فائرنگ کی گئی اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے۔

پیر کے روز فلسطینی غزہ پٹی پر احتجاج کر رہے ہیں‘ یہ احتجاج ’ ’گریٹ مارچ آف ریٹرن‘ ‘ تحریک کا حصہ تھا جبکہ اس احتجاجی ریلی میں شرکت کرنے کےلیے 10 ہزار سے زائد فلسطینی غزہ پٹی پر پہنچے تھے۔واضح رہے کہ 30 مارچ سے شروع ہونے والے احتجاج میں اسرائیلی فوج نے اب تک 74 فلسطینیوں کو ہلاک کیا جاچکا جبکہ 9ہزار 400سے زائد فلسطینی زخمی ہیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب اسرائیلی فوج کی فائرنگ پر وزارت صحت نے کہا کہ فائرنگ کے واقعے میں متعدد افراد ہلاک اور 918 زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔

وزرات صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے جنوبی غزہ پٹی میں ہلاک ہونے والوں میں 21 سالہ انس حمدان، 26 سالہ بلال ابو دقہ، 22 سالہ ازل دین الاویتی، 30 سالہ عبیدہ سلیم فرحان، 26 سالہ محمد ابو ستاح، 32 سالہ فادی ابو صالح اور 30 سالہ جہاد مفید عبدالمنعم شامل ہیں۔وسطی اور شمالی غزہ پٹی میں ہلاک ہونے والوں میں 29 سالہ مصعب ابو لیلیٰ، 14 سالہ ازل دین السمک شامل ہیں جبکہ جنوبی پٹی کے قریب رفاح کے مقام پر ہلاک ہونے والوں میں متعصم ابو لاولی اور محمد عبدالایل شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ہلاک افراد میں 5 کی شناخت نہیں ہوسکی ہے جبکہ وزارت صحت کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے میں تقریباً 512 افراد زخمی بھی ہوئے۔اسرائیلی فوجی کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی کے قریب تقریباً 10 ہزار فلسطینیوں کی جانب سے احتجاج کیا جارہا تھا اور فوجی وہی طریقہ کار اپنا رہے ہیں اور ایک آپریشن کے دوران اپنایا جاتا ہے۔ فلسطینی ”نکبہ“ کے نام سے اس دن کی یاد میں مناتے ہیں جس میں 1948 کی جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کے قیام کے پیشِ نظر 7 لاکھ فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کا افتتاح آج ہوگا، یہ تقریب اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ پر ہو رہی ہے۔۔اقوام متحدہ کی قراردادیں بالائے طاق رکھ کرامریکامقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولنے کیلئے تیار ہے۔خطے میں انتشار کو مزید بڑھاوا دینے کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایونکا اور داماد کوشنر وفد کے ہمراہ اسرائیل میں موجود ہیں،جہاں وہ نئے سفارتخانہ کا افتتاح کریں گے،تقریب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ویڈیو خطاب کریں گے وہ خود تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔

امریکا کی جانب سے 86ملکوں کو تقریب کا دعوت نامہ بھجوایا گیا تھا،جس میں صرف 32ممالک نے شرکت کی حامی بھری ہے۔یہ تقریب اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ پر منعقد کی جارہی ہے،دوسری جانب فلسطینیوں کے شدید احتجاجی مظاہرے بھی جاری ہیں۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نےاس امریکی فیصلے کو کثرت رائے سے مسترد کردیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلی اہلکاروں نے انتظام کا جائزہ لیا۔

سفارتخانے کے ابتدائی عملے میں سفیرڈیوڈ فرائڈمین کے مشیر اور قونصل خانے کے اہلکار شامل ہیں جو پہلے ہی اسی مقام پرکام کررہے ہیں۔تقریب میں تقریبا 800امریکی اور اسرائیلی شخصیات شرکت کریں گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح سے قبل اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔تل ابیب سے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے ان کے فیصلے پر فلسطینی عوام میں غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

اسرائیل یروشلم کو اپنا ازلی اور غیر منقسم دارالحکومت کہتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم پر اپنا دعوی پیش کرتے ہیں جس پر اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ میں قبضہ کر لیا‘فلسطینی اسے اپنی مستقبل ریاست کا دارالحکومت کہتے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے سے اس مسئلے پر دہائیوں سے جاری امریکی غیرجانب داری میں فرق آیا اور وہ بین الاقوامی برادری کی اکثریت سے علیحدہ چلا گیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ سفارتخانے کی منتقلی جشن کا موقع ہے اور دوسرے ممالک سے اس کی پیروی کریں۔انھوں نے کہا میں تمام ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل کرنے میں امریکہ کے ساتھ آئیں۔ یہ درست عمل ہے کیونکہ اس سے امن کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔فلسطنینی صدر محمود عباس نے صدر ٹرمپ کے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے فیصلے کو صدی کا تھپڑقرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ یروشلم میں موجود امریکی قونصل خانے میں ایک چھوٹے اور عبوری سفارتخانے کا پیر کو افتتاح ہو رہا ہے جبکہ پورے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے لیے ایک بڑی جگہ بعد میں تلاش کی جائے گی۔یوروپین یونین نے سفارتخانے کی منتقلی پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے جبکہ زیادہ تر یورپی یونین کے سفیر اس کا بائیکاٹ کریں گے۔تاہم ہنگری، رومانیہ، اور چیک ریپبلک جیسے ممالک کے درجنوں نمائندے وہاں موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ گواٹے مالا اور پیراگوئے کے صدور بھی اس میں شامل ہونے والے ہیں۔ دونوں ممالک صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد اپنے سفارتخانے وہاں منتقل کر رہے ہیں۔