ایم ٹی آئی خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے مختلف حصوں میں تعمیر نو کا کا م زور سے جاری

پیر مئی 18:09

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اطلاع عام دی جاتی کہ ایم ٹی آئی خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے مختلف حصوں میں تعمیر نو کا کا م پورے زور سے جاری ہے۔ بیسمنٹ ،پرائیوٹ روم اور دوسرے شعبوں کو اس تعمیر نو کے کام کی وجہ سے خالی کروایا گیا ہے۔حال میں ادارجاتی و ایم ٹی آئی دشمن عناصر نے ادارے اور انتظامیہ کی ساخت کو نقصان پہچانے کے غرض سے خود ساختہ ثبوت اور جھوٹ کا سہارا لے کر بہت الزامات لگائے ہیں۔

1300بستروں پر مشتمل ہسپتال 1976میں بنایا گیا۔ مالی امداد کی عدم موجودگی کے باعث ہسپتال کی عمارت اور بجلی ، گیس وپانی کی صحیح طرح دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث عمارت توڑ پھوڑ و بوسیدگی کا شکار ہوئی۔ ان تلخ حقائق کو دیکھ کر حکومت خیبر پختونخواہ نے 700ملین کی رقم ہسپتال کی تعمیر نو ، مرمت وخوبصورتی کے لئے مختص کی۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ ہسپتال میں HVACیعنی درجہ حرارت اور ٹھنڈک کے نظام کے لئے بھی 500ملین روپے کی رقم مہیا کی گئی۔

اس منصوبہ کے اہم مقاصد میں ایک مقصد بیسمنٹ میں موجود احاطے، (100000sq/ft) ایک لاکھ جو کہ پہلے گودام اور پرانے سامان کے لئے استعمال کیا جاتا تھاکو استعمالمیں لایا جائے۔ یہاں کنسلٹنٹ و فیکلٹی ممبران کے لئے 94کمرے فراہم کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ (1000)ایک ہزار سے زائد مریضوں کے لئے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی۔ شعبہ ڈائلائسس کو 32کرسیوں کے ساتھ چلایا جائے گا۔

شعبہ جراحی کو مزید مستحکم کرنے اور جراحی کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے پہلی منزل جہاں پہلے پرائیوٹ کمرے تھے وہاں پر 20موڈیولر آپریشن تھیٹر بنانے جائیں گے۔ جو جدید طرز وآلات سے لیس ہونگے جس پر کام جاری ہے۔ایم ٹی آئی خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی فیکلٹی مریضو ں کو 24گھنٹے علاج معالجے کی خصوصی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ جس کے باعث مریض 10روپے کی پرچے پر ڈاکٹر کے معائنے سے لیکر دیگر خصوصی و پیچیدہ تشخیصی سہولیات کے ساتھ مفت دوائی بھی حاصل کرتا ہے۔

اوسطًا ماہانہ (120000) ایک لاکھ بیس ہزار مریض خیبر ٹیچنگ ہسپتال سے معالجے کی سہولت لیتے ہیں۔یعنی یومیہ (4000)چار ہزار مریض ،ساتھ ہی ماہانہ (3500)تین ہزار پانچ سو جراحی کے کیس اور اوسطًا (115)ایک سو پندرہ جراحی کے کیس روزانہ کیے جاتے ہیں۔ یہ ظاہری طور پر عوام کا فیکلٹی اور انتظامیہ پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ خصوصی معالجے کی سہولیات کی فراہمی کی بدولت ہسپتال میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

اس طرح پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ میں یومیہ (4000)چار ہزار ٹیسٹ اور ماہانہ (100000)ایک لاکھ ٹیسٹ اس بات کا ثبوت ہے۔ ریڈیالوجی میں ماہانہ (9000)نو ہزاور الٹراساونڈ اور یومیہ (300)تین سو الٹراساونڈ بھی اسی بات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہسپتال میں داخل مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یومیہ (300)تین سو داخلے اور مہینے میں (9000)نو ہزار تک داخلے کیے جاتے ہیں۔

حال ہی میں آن لائن رپوٹنگ شروع کی گئی ہے جو کنسلٹنٹ اور مریض دونوں کے لئے فائدہ مند ہے۔موجودہ انتظامیہ نے مختلف شعبوں کو اُنکی مانگ کے مطابق آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے تاکہ مریض کے معالجے میں بہتری کے ساتھ پوسٹ گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ طالب علموں کی ٹریننگ میںبھی بہتری آئے ۔ جدید (350)تین سو پچاس بستروں پر مشتمل نو تعمیر شدہ شعبہء حادثات و ایمرجنسی کی عمارت بھی جلدہسپتال انتظامیہ کے حوالے کی جائے گی۔ نفاذ ایم ٹی آئی ایکٹ 2015کے بعد ہسپتال میں روز بہ روز بہتری رونما ہوئی ہے جس کا سہرا بورڈ آف گورنر کو جاتا ہے۔ جو کہ قانون سازی ، کار ہسپتال اور قانون کے نفاذ و بالادستی پر دن رات نظر رکھتے ہیں۔