انگریز سامراج کے استحصالی نظام سے معاشرے تنزلی کا شکار ہوا ، میاں افتخار حسین

مزدوروں کے حقوق کے لیے عالمی اور ملکی سطح پرقوانین بنتے ضرور ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندیوں کی وجہ سے مزدور یونینز غیر فعال ہوتی دکھائی دیتی ہیں،صوبے میں ملیں بند اور گدون امازئی کارخانوں کا قبرستان بن چکا ہے ،خطاب

پیر مئی 18:21

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں سب سے زیادہ حصہ مزدوروں کا ہی ہے ، مزدوروں کے حقوق کے لیے عالمی اور ملکی سطح پرقوانین بنتے ضرور ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا جس کی وجہ آئے روز مزدور سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ میں پریم یونین کے تنظیمی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے ضلعی صدر ملک جمعہ خان اور پریم یونین کے عہدیدار اور تنظیمی ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں حکومتوں کی ناقص اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کے باعث تمام شوگر ملیں ، کپڑے کی ملیں ، امان گڑھ مل اور اس طرح دیگر ملیں بند ہو چکی ہیں جبکہ گدون امزائی کارخانوں کا قبرستان بن چکا ہے ، انہون نے کہا کہ ملوں اور کارخانوں کی بندش کی وجہ سے مزدور یونینز بھی غیر فعال ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ماضی میں جب یوم مئی پر ریلیاں نکالی جاتیں تو مزدور اپنے حقوق کیلئے لاکھوں کی تعداد میں ان ریلیوں میں شرکت کرتے جبکہ موجودہ دور میں صورتحال اس کے بر عکس ہے اور یہ حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک میں کاروبار تقریباآ ختم ہو چکا ہے اور سرمایہ کار اپنے کاروبار اور سرمایہ منتقل کر رہے ہیں ، پاکستان کی اکلوتی سٹیل مل اور ریلوے کا محکمہ بد حالی کا شکار ہے جس کے مضر اثرات لیبر یونین پر بھی پڑے، انہوں نے مزید کہا کہ ہمسایہ ملکوں کی ساتھ تجارت بھی اس لئے بند ہے کیونکہ ملک میں مینو فیکچرنگ کی صنعت ختم ہونے کے قریب ہے ،اور یہ صورتحال ملک کی بدحالی کی عکاس ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی اپنے آنے والے دور میں مزدوروں کو ساتھ لے کر چلے گی اور اپنے انتخابی منشور میں بھی مزدور برادری کو اہمیت دے گی،انہوں نے کہا کہ ہم پریم یونین سمیت تمام مزدور تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے ان کے حقوق کیلئے جنگ لڑیں گے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ انتخابی منشور تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اس میں مزدور یونین کیلئے گنجائش رکھی گئی ہے تاکہ وہ اپنے مسائل سے آگاہ کریں اور انہیں اس منشور کا حصہ بنایا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ جو قومیں مزدوروں کی قدر نہیں کرتیں وہ ترقی نہیں کر سکتیں ،انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کی خدائی خدمت گار تحریک میں اہم عہدے مزدوروں کے پاس تھے کیونکہ وہ محنت اور مشقت پر یقین رکھتے تھے اور ان کی قدر بھی تھی تاہم بدقسمتی سے اانگریز نے ہمارے معاشرے کا اس قدر استحصال کیا کہ اس میں مزدور اور ہنر مند کو ہی حقیر جانا جانے لگا،اور یہی وجہ ہے جس سے معاشرہ تزنزلی کا شکار ہوا ،پریم یونین کے عہدیداروں نے میاں افتخار حسین کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اے این پی کے پلیٹ فارم سے اپنے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔