ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کے بیان پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کیوں نہ ہوئی؟

معروف صحافی حامد میر نے وزیراعظم کی پریس کانفرنس براہ راست نشر نہ ہونے کی اندرونی کہانی بتا دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 17:54

ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کے بیان پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 مئی 2018ء) : نجی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ آج قومی سلامتی اجلاس کا اعلامیہ جاری ہونے کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جو پریس کانفرنس کی میں اس وقت وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی اس پریس کانفرنس میں موجو دتھا ،سرکاری ٹی وی نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کو براہ راست نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور میرا نہیں خیال کہ اسے ہو بہو نشر کیا جا سکتا تھا کیونکہ اس پریس کانفرنس میں صحافیوں نے شاہد خاقان عباسی سے جو بھی سوالات کیے ہیں وہ ان کا صحیح طور پر جواب نہیں دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کے دوران شاہد خاقان عباسی کافی کنفیوژ تھے اور ان کے دائیں بائیں جو وزرا بیٹھے ہوئے تھے وہ بھی کافی پریشان تھے۔

(جاری ہے)

اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آج قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی اوراجلاس کی جو پریس ریلیز جاری ہوئی ہے اس میں ڈان اخبار میں نواز شریف کے حوالے سے جو بات شائع ہوئی اس کی مذمت کی گئی تھی۔

لیکن ابھی جو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس کی اس میں ابھی جو کی اس میں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد میری نواز شریف سےملاقات ہوئی ہے اور نواز شریف نے کہا کہ ڈان کے انٹرویو میں عسکریت پسند تنظیموں سے متعلق ان کے جو بیانات شائع ہوئے ہیں اور جو باقی ساری باتیں ہیں ان کو مس رپورٹ کیاگیا ہے۔ اس بات پر میں فوری طور پر ان سے سوال کیا کہ آپ نے پہلے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں آپ نے ان کے بیان کی مذامت کی ہے اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف اپنے بیان کی تردید کر رہے ہیں جبکہ آج صبح احتساب عدالت میں نواز شریف نے میڈیا سے بات کی ہے اور ڈان کا انٹرویو صحافیوں کو خود پڑھ کر سنایا ہے اور کہاکہ بتائیں میں نے کون سی بات غلط کی ہے۔

وہ اپنے انٹرویو پر قائم ہیں۔ لیکن آپ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے مطابق انہیں مس کوٹ کیا گیا ہے۔ نواز شریف نے خود اس کی تردید کیوں نہیں کی؟ اس بات کا شاہد خاقان عباسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ پھر ان سے سوال کیاگیا کہ اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے بیان کو مس کوٹ کیا گیا تو جس اخبار نے یہ بیان شائع کیا ، کیا آپ اس کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے؟ تو اس کا بھی ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

پھر ان سے کافی واضح الفاظ میں پوچھا گیا کہ نواز شریف کے بیان کے بعد ملک میں اب جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ نواز شریف اپنے بیان پر قائم ہیں، شہباز شریف نے ان کے بیان کو کہا کہ مس رپورٹ ہوا ہے، آپ نے بھی یہی کہا ، نواز شریف نے اپنے بیان پر ڈٹے رہ کر آپ کو اور شہباز شریف کو غلط ثابت کر دیا ہے ، اب آپ یہ بتائیں کہ آپ میں سے کون استعفیٰ دے گا ۔

اس سوال پر وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی دفاعی پوزیشن میں آگئے اور کچھ سوچ بچار کے بعد کہا کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گا ۔ وزیر اعظم کے پاس پریس کانفرنس میں کسی ایک سوال کا بھی صحیح جواب نہیں تھا ۔ ان سے ایک ہی سوال بار بار کیا جا رہا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے بعد آپ جو وضاحت کر رہے ہیں ، نواز شریف خود کیوں اپنے بیان کی وضاحت نہیں کررہے۔

اس پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ، پھر انہوں نے ایک اور یو ٹرن لیا ، اور کہاکہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے بعد جو پریس ریلیز جاری ہوئی ،اس میں نواز شریف کے بیان کی نہیں بلکہ اخبار کی رپورٹنگ کی مذت ہوئی ہے ،جس پر تمام صحافیوں نے ان سے کہا کہ وزیر اعظم صاحب اب آپ یہ غلط کر رہے ہیں اورخود اس معاملے کو مس رپورٹ کر رہے ہیں،آپ نے ایک اجلاس کی صدارت کی ، آپ کی مرضی سے آپ کی اپنی تائید سے اجلاس کا اعلامیہ جاری ہوا اور اب آپ اس اعلامیے کو اپنی مرضی کے مطابق ٹوئسٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

آخر میں ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ابھی بھی آپ یہ کہیں گے کہ آپ کا اصل وزیر اعظم نواز شریف ہے؟ تو پہلے تو انہوں نے بات کو گھمانے کی کوشش کی، لیکن جب ان سے دوبارہ یہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں نواز شریف کے ساتھ ہوں، شاید یہی صورتحال تھی اور ان کو علم تھا کہ آج سوالات ایسے ہوں گے جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا، اسی لیے پاکستان ٹیلی ویژن نے ان کی پریس کانفرنس کو براہ راست نشر نہیں کیا اور میرا نہیں خیال کہ اس پریس کانفرنس کو ہو بہو دوبارہ نشر کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ آج صبح وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا ۔ ۔۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان بھی شریک ہوئے۔

شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس ((آئی ایس آئی)) لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) محمد سیلمان خان، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی شریک تھے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے عناد کو اجاگر کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔قومی سلامتی اجلاس کے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں ممبئی حملوں سے متعلق ایک اخباری بیان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ بیان مکمل طور پر غلط اور مس لیڈنگ ہے۔شرکا نے 12 مئی کو شائع ہونے والے بیان کو متفقہ طور پر غلط اور گمراہ کُن قرار دیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ افسوس اور بد قسمتی ہے کہ حقائق کو شکایت کے انداز میں غلط شائع کیا گیا ۔ اس اخباری بیان میں حقائق اور ٹھوس شواہد کو نظر انداز کیا گیا۔۔ممبئی حملوں کی تحقیقات مکمل نہ ہونے کا ذمہ دار پاکستان نہیں بھارت ہے۔

بھارت کی وجہ سے ممبئی حملہ کیس میں تاخیر ہوئی۔ ممبئی حملوں سے متعلق بھارت نے تحقیقات کے لیے شواہد پیش نہیں کیے۔ بھارت نے کسی موقع پر پاکستان سے تعاون نہیں کیا۔۔پاکستان کلبھوشن اور سمجھوتا ایکسپریس پر تعاون کا منتظر ہے۔ حقیقت کو پس پشت ڈال کر جھوٹی اور ذاتی خراعات کو مسترد کرتے ہیں۔ اپنی غلط فہمیوں اور محرومیوں کی وجہ سے رائے دی جا رہی ہے۔

اجلاس کے شرکا نے متفقہ طور پر اس بیان کی مذمت کی۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کو بارہا مطالبے کے باوجود بھارت نے اجمل قصاب تک رسائی دینے سے انکار کیا ۔قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیہ میں 12 مئی کو شائع ہونے والے بیان میں لگائے گئے الزامات کو سختی سے رد کر دیا گیا ۔قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کےشرکا نے ان تمام تر الزامات کو متفقہ طور پر رد کر دیا ہے۔اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی اس گمراہ کن بیان کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔ اس اعلامیے کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا تھا جسے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) نے براہ راست نشر نہیں کیا۔