نواز شریف کے ملک دشمن بیان کے خلاف پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ شاہراہ فیصل تھانے پر پہنچ گئے

دشمن ملک کے حق میں بیان دینے پر 121-124سیکشن کے تحت مقدمہ درج کیا جائے ، میڈیا سے گفتگو

پیر مئی 18:29

نواز شریف کے ملک دشمن بیان کے خلاف پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ شاہراہ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے نائب صدر حلیم عادل شیخ نواز شریف کے ملک دشمن بیان کے خلاف شاہراہ فیصل تھانے پر پہنچ گئے اور نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لئے سیکشن 121-124کے تحت درخواست جمع کرا دی، جس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا نواز شریف اقتدار کی لالچ میں ملک کی سالمیت کو بھی دائو پر لگا دیا ہے اس سے بڑا ملک کا غدار کوئی نہیں ہوسکتا ۔

انہوں نے کہا نواز شریف کی سیاست ختم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ملک کے اداروں سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے انہوں نے کہا نواز شریف نے کبھی بھارت کے خلاف سخت بیان نہیں دیا اور اب پاکستان کے خلاف بیان دیکر نواز شریف نے مودی کی دوستی نبھائی ہے انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز نے بھی اپنے ٹوئیٹ میں نواش شریف کے موقف کی تائید کی ہے جبکہ شہباز شریف تردید کر رہے ہیں جس سے لگتا ہے کہ گھر میں جنگ چھڑ گئی ہے، انہوں نے مزید کہا پاکستان نواز شریف نے نہیں بنایا تھا اس ملک کو بنانے کے لئے ہمارے ابائو اجداد نے جانوں کی قربانیاں دیں ہیں نواز شریف کے اس بیان سے قوم کے جذبات بھی مجروح ہوئے ہیں انہوں نے کہا قوم ایسے ملک غداروں کو کبھی نہیں بھولے گی، نواز شریف کی چھپی ہوئی پالیسیاں اس بیاں سے ظاہر ہوچکی ہیں او ر اب بھی نواز شریف عوام میں جانے کی بات کرتے ہیں انہوں نے کہا نواز شریف نے کبھی بھی پاکستان کی فلاح بہبود کے لئے کام نہیں کیا صرف پئسہ کمانے کے خاطر اقتدار میں آئے سارا پئسا باہر ملک بچے باہر ملک، علاج تک باہر ملک کراتے ہیں جبکہ خالی حکمرانی کرنے اس ملک میں آتے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ اب قو م ایسے غداروں کی باتوں میں نہیں آئے ایسے غداروں کو تو سرے عام پھانسی دی جائے، انہوں نے کہا ہم نے پاکستانی ہونے کا فرض نبھایا ہے شاہراہ فیصل تھانے پر مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست دے دی ہے ، آئی جی سندھ سے اپیل ہے کہ نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے دیگر صورت کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

ان کے ہمراہ پی ٹی آئی منارٹی ونگ سندھ کے صدر جئہ پرکاش اکرانی و دیگر بھی موجود تھی۔