ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ورلڈ ہائپر ٹینشن ڈے کے موقع پر آگاہی واک اور سیمینار کا انعقاد

پیر مئی 18:29

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) ماہرِ امراض قلب اور پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ کے جنرل سیکر یٹری نے کہا ہے کہ بلڈ پریشر کا مرض دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، اسی طرح پاکستان میں اسکی شرح تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اٹھارہ سال سے زائد عمر کے لوگوں میں اسکی شرح 20فیصد کے لگ بھگ ہے، مگر پاکستان کے شہری علاقوں میں یہ شرح 30فیصد کے قریب ہے، یہ باتیں انہوں نے ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے آراگ آڈیٹوریم میں ورلڈ ہائپر ٹینشن ڈے کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہیں ، اس موقع پر ڈائو یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسرڈاکٹر امان اللٰہ عباسی نے بطور مہمان اعزازی، چیئرمین اینڈ ہیڈ آف کارڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر نواز لاشاری، پروفیسر منصور، سول اسپتال کے میڈیکل سپریٹینڈینٹ ڈاکٹر توفیق اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

پروفیسر اسحاق نے مزید کہا کہ بلڈ پریشر خاموش قاتل ہے، ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے یہاں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہماری آبادی کے 65فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر خطرے کی بات یہ ہے کہ ہمارا ماحول ، حالات ، عادات اور طرزِ زندگی بلڈ پریشر کی شرح بڑھانے کے لیے نہایت سازگار (مدد گار)ہیں ۔اس لیے مستقبل میں ہماری نسل میں بلڈ پریشر کی شرح میں مزید بڑھنے کے خطرات منڈلارہے ہیں۔

ڈائو یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر امان اللٰہ عباسی نے کہا ہمارے لائف اسٹائل میں اسٹریس کا عنصر بہت زیادہ ہے اور جسمانی ورزش بہت کم ہیں یہی وجہ ہے کہ بلڈ پریشر کی شرح بڑ ھ رہی ہے، موٹاپے کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی عادات اور طرزِ زندگی بدلے بغیر بلڈ پریشر کی شرح کو کم نہیں کیا جاسکتا۔

ڈاکٹر رتھ فائو سول اسپتا ل کراچی کارڈلوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئر مین اور وارڈ کے سربراہ پروفیسر نواز لاشاری نے کہا کہ امریکہ میں موٹاپے کہ وجہ سے بلڈپریشر کی شرح بہت زیادہ ہے۔ 50ملین لوگ وہاں بلڈ پریشر کا شکار ہیں جبکہ دنیا بھر میں بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد ایک ارب ہے۔ انہوں نے مزید بتایا پاکستان میں 50 سال سے زائد عمر کے لوگوں میں بلڈ پریشر 50 فیصد، تیس سال کی عمر کے لوگوں میں تیس فیصد جبکہ بچوں میں بھی 5 سے 7فیصد ہوتاہے،عام طورپر خواتین کے مقابلے میں مردوں میں بلڈ پریشر کی شرح زیادہ ہے۔

کہ سول اسپتال کارڈیولوجی کی او پی ڈی میں 40ہزار مریض آئے ہیں، جبکہ کارڈک ایمرجنسی میں 58400 مریض لائے گیے، 3700مریض آئی سی یو میں ، جبکہ 15000کیایکو کارڈیو گرافی کی گئی، ،1200کو اینجیو گرافی کی سہولت دی جاتی ہے، 260 کی اینجو پلاسٹی ، 900 کی ای ٹی ٹی کی گئی۔ اسکے علاوہ نئے آلات اور جدیدمشین بھی منگوائی گئی ہیں ، جن کے آنے کے بعد مریضوں کی سہولت دینے کی صلاحیت بھی بڑھ جائے گی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمباکو کے استعمال سے سختی سے گریز کیا جائے، روازنہ کم از کم 20 منٹ واک یا ہفتہ میںکم از کم 80منٹ واک، جنک فوڈ سے سختی سے اجتناب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مریضوں پر زور دیا کہ بلڈ پریشرکی دوا بلا ناغہ استعمال کریں عام مشاہدہ ہے کہ بلڈ پریشر کی دوا نا غہ اچانک حادثے کا سبب بنتاہے۔قبل ازیں بلڈپریشر کی لوگوں میں آگہی کے لیے آراگ آڈیٹوریم سے واک کا بھی اہتمام کیا گیا، جس کی قیادت پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خاور سعید جمالی نے کی۔تقریب کے آخر میں کارڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مہمانوں کو گلدستے پیش کئے گیے۔