محکمہ صحت عامہ میں ملازمین کی حاضری یقینی بنانے کیلئے مرکزی و اضلاع کی سطح پر مانیٹرنگ سیل قائم کئے جائینگے‘

ہسپتالوں میں دوران ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہوگی ‘ ڈاکٹر محمد صابر عباسی

پیر مئی 19:52

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) ڈائریکٹر جنرل صحت عامہ ڈاکٹر محمد صابر عباسی نے کہا ہے کہ محکمہ صحت عامہ میں ملازمین کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے مرکزی و اضلاع کی سطح پر مانیٹرنگ سیل قائم کرنے ہسپتالوں میں دوران ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہوگی ۔ملازمین حاضری یقینی بنائیں ۔صرف انتہائی ضروری مجبوری کے تحت ہی چھٹی کریں جو ملازم ڈیوٹی پر حاضر ہو کر کام نہیں کرے گا وہ گھر جائے کام کرنے والے کی حوصلہ افزائی ہوگی ،ملازمین خود بھی خدا کا خوف کریں ۔

سرکاری ہسپتالوں میں مفت ایمرجنسی کیلئے حکومت نے 90ملین روپے فراہم کیے ہیں جن سے مفت علاج معلجہ کی سہولت دی جا رہی ہے ۔کنڈلشاہی سیاحوں کو پیش آنے والے سانحہ میں محکمہ صحت عامہ کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر کے ایمبولینس ڈاکٹرز پیرا میڈیکل سٹاف موقع پر حاضر کیا خود میں ساری کارروائی سے براہ راست رابطہ میں رہا ۔

(جاری ہے)

باغ میں استقبالیہ تقریب اسی سانحہ کی وجہ سے ملتوی کی ہے ۔

وزیر اعظم اور وزیر صحت عامہ کی ہدایت پر سیاحتی مقامات میں ہیلتھ سنٹرز میں ادویات کی فراہمی کی ہے عملہ کو حاضر ہونے کا پابند کیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے آفس چیمبر میں میڈیا اور مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔وفد میں محمد اقبال عباسی ،جہانگیر حسین اعوان ،قاضی محمود ،قاضی سلیم ،میڈیا کوآرڈی نیٹر قاضی تنویر ،قمر اعوان ڈپٹ ڈائریکٹر جاوید اکبر و دیگر شامل تھے ۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل صحت عامہ ڈاکٹر محمد صابر عباسی نے کہا کہ تمام ملازمین کا وارننگ ہے کہ وہ اپنی اپنی جائے تعیناتی پر حاضر ہوں ۔مخلوق خدا کی خدمت کریں ۔ہسپتالوں میں دوران ڈیوٹی موبائل فون پر پابندی ہوگی ۔لوگوں کی شکایات دور کرینگے ۔ضلع نیلم سانحہ کے جاں بحق سیاحوں ،زخمیوں کو مفت ایمبولینس سروس فراہم کی گئی ہے جبکہ ان کو گھر گھر پہنچانے کیلئے وہاں ہسپتال میں بھی 3ایمبولینس فراہم کی ہیں ۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر ،وزیر صحت عامہ ڈاکٹر نجیب نقی ،سیکرری صحت عامہ کی خصوصی ہدایت کے مطابق عملہ نے کام کیا ہے ۔محکمہ صحت عامہ کی بہتری کیلئے کام کرینگے ۔عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرینگے ۔