وزیرداخلہ احسن اقبال سروسز ہسپتال سے ڈسچارج ہوگئے

میں آج گھرجاتےہوئےاپنےساتھ جسم میں گولی زندگی بھرکیلئےلےجا رہا ہوں،پاکستان کوامن کاگہوارہ بنانے کے لیےکام کرنا ہے،مجھےنئی زندگی ملی،اللہ تعالیٰ کا بے پناہ شکراداکرتا ہوں،قومی پرچم بھی لہرایا۔ ویڈیو پیغام

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر مئی 19:00

وزیرداخلہ احسن اقبال سروسز ہسپتال سے ڈسچارج ہوگئے
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14مئی 2018ء) : وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کو سروسز ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج گھر جاتے ہوئے اپنے ساتھ جسم میں گولی زندگی بھرکیلئے لے جا رہا ہوں،،پاکستان کوامن کا گہوارہ اور ہم آہنگی کا مضبوط مرکزبنانے کے لیے کام کرنا ہے،مجھے نئی زندگی ملی،اللہ تعالیٰ کا بے پناہ شکر ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد ویڈیو پیغام میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کا بے پناہ شکر ادا کرتا ہوں۔ رب کائنات کی خصوصی عنایت سے مجھے نئی زندگی ملی ہے۔ ڈاکٹرز، نرسزاور عملے نے جس طرح ابتدائی طبی امداد دی ان کا بے حد مشکور ہوں۔ انہوں نے کہاکہ میں اہل پاکستان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا کہ میں آج گھر جاتے ہوئے اپنے ساتھ جسم میں گولی زندگی بھرکیلئے لے جا رہا ہوں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان کوامن کا گہوارہ اور ہم آہنگی کا مضبوط مرکزبنانے کے لیے کام کرنا ہے۔ پاکستان دین اسلام کے نام پرحاصل کیا گیا،اسلام امن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت کے کانٹوں کو دور کرنے کے لیے ابھی کتنی جدوجہد کرنی ہے؟ احسن اقبال نے بالکونی میں پاکستانی پرچم بھی لہرایا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال نارووال لے جایا گیا۔

سیکیورٹی عملے نے اپنی جان پرکھیل کرحملہ کرنیوالے کوحراست میں لیا۔ واضح رہے احسن اقبال نارووال میں 6 مئی کوقاتلانہ حملےمیں زخمی ہوگئے تھے۔ فائرنگ کےملزم کوگرفتارکرکے اس سےتفتیش جاری ہے۔ وزیرداخلہ پرحملہ کرنے والے ملزم عابد نے دوران تفتیش بڑے انکشافات کیے ہیں۔ عابد کا تعلق انڈر ورلڈ کے ساتھ بھی بتایا جا رہا ہے۔ عابد حسین نے اعتراف کیا کہ احسن اقبال پرحملہ ختم نبوت ﷺ کے قانون میں تبدیلی کرنے پرکیا۔ جبکہ حملہ کرنے کا فیصلہ ان کا ذاتی تھا۔