اس مرتبہ موسم گرما میں پاکستانیوں کو آم کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے

پانی کی قلت و دیگر مسائل سندھ میں پھلوں کے بادشاہ آم کی پیداوار میں کمی کاامکان آم کی فصل مارکیٹ میں پہنچنا شروع ہوگئی ہے تاہم امید نہیں ہے کہ اس سال بہتر فصل پیدا کی جاسکے گی،کاشتکار

پیر مئی 20:48

اس مرتبہ موسم گرما میں پاکستانیوں کو آم کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) سندھ میں پھلوں کے بادشاہ آم کی پیداوار کو صوبے میں پانی کی قلت اور دیگر مسائل کی وجہ سے کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کاشتکاروں کا یقین ہے کہ آم کی فصل مارکیٹ میں پہنچنا شروع ہوگئی ہے تاہم امید نہیں ہے کہ اس سال بہتر فصل پیدا کی جاسکے گی۔ محکمہ آبپاشی سندھ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس یکم اپریل تک سکھر بیراز کو اپنے مختص پانی کے حصے میں سے 75 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم 15 اپریل تک یہ کمی کم 68 سے 72 فیصد تک رہی جبکہ صورتحال کچھ بہتر ہوتی ہوئی مئی کے پہلے ہفتے تک 46 سے 40 فیصد پانی کی کمی رہ گئی۔

سندھ میں آم کے 80 فیصد باغات کو سیراب کرنے والا پانی سکھر بیراج کے روہڑی کینال اور نارا کینال سے آتا ہے جو ضلع خیرپور، نوشیروفیروز، بینظیر آباد، مٹیاری، حیدرآباد، ٹنڈوالہ یار، میرپور خاص، عمر کوٹ اور سانگھڑ کے باغات تک پہنتا ہے۔

(جاری ہے)

سندھ باغبانی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ایس ایچ آر آئی) میرپورخاص کے ڈائریکٹر محمد خان بلوچ کا کہنا ہے کہ اس سال ملک میں آم کی پیداوار میں مجموعی کمی 25 سے 30 فیصد تک ہونے کا امکان ہے، تاہم ایسے علاقے جہاں پانی تقریبا نا ہونے کے برابر ہے، وہاں یہ کمی 40 فیصد تک بھی ہوسکتی ہے۔

محمد خان بلوچ کے مطابق یہ اعداد و شمار سندھ کے مختلف اضلاع بالخصوص میرپورخاص اور حیدرآباد میں ایس ایچ آر آئی کے سروے کے بعد اخذ کیے گئے ہیں۔آم کی اقسام میں سے سندھ میں سب سے زیادہ پیداوار سندھڑی آم کی ہے جو پھلوں میں صوبے کی اہم برآمدات میں سے ایک ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں سرولی، چونسا، لنگڑا، دسیری، بیگن پھلی وغیر شامل ہیں۔

کئی ترقی پسند کاشتکار اپنے باغوں میں پیدا ہونے والے اجناس کا بہتر معاوضہ حاصل کرنے کے لیے اس وقت دنیا میں رائج اچھا زراعتی طریقہ کار (گیپ) اپنا چکے ہیں، اس کے علاوہ کاشتکار اپنے باغوں کو ٹھیکیداروں کو کرائے پر بھی دے دیتے ہیں۔اس کے علاوہ کئی کاشتکار ایسے بھی ہیں جنہوں نے بیرونِ ملکی امداد کے تحت منیجمینٹ کی صلاحیتیں سیکھنے کے بعد خود سے آموں کی برآمدات کر رہے ہیں۔ٹنڈوالہ یار سے تعلق رکھنے والے ایک کاشتکار رئیس امداد نظامی نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال آم کی پیداوار میں کمی واقع ہوگی۔۔

متعلقہ عنوان :